حدیث نمبر: 6933M
حدَّثني عمر بن عثمان الجَحْشيّ، عن أبيه قال: قَدِمَ النبيُّ ﷺ المدينة، وكانت زينبُ بنت جحش ممَّن هاجرَ معَ رسولِ الله ﷺ، وكانت امرأةً جميلة، فخطبَها رسولُ الله ﷺ على زيد بن حارثة، فقالت: يا رسولَ الله، لا أَرضاه لنفسيّ، وأنا أيِّمُ قريش، قال: "فإني قد رَضِيتُه لكِ"، فتزوجها زيد بن حارثة (2).
حافظ طلحہ بابر

عمر بن عثمان جحشی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: نبی کریم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا ان لوگوں میں شامل تھیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ ہجرت کی تھی، وہ ایک حسین و جمیل خاتون تھیں، رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کا رشتہ مانگا تو انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں انہیں اپنے لیے پسند نہیں کرتی جبکہ میں قریش کی معزز بیوہ ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے اسے تمہارے لیے پسند کر لیا ہے“، چنانچہ سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے ان سے نکاح کر لیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6933M
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 6933M] [ترقيم الشركة 6853/1]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده ضعيف بمرَّة، من فوق الواقديّ لم نتبيَّنهما، وهو مرسل أو معضل أيضًا.
درجۂ حدیث: یہ سند یکسر "ضعیف" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: واقدی سے اوپر والے راویوں کی شناخت نہیں ہو سکی، اور یہ "مرسل" یا "معضل" بھی ہے۔
وأخرجه ابن سعد في "الطبقات" 10/ 98 - ومن طريقه الطبري في "تاريخه" 11/ 607 - عن الواقديّ، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد (10/ 98) اور طبری (11/ 607) نے واقدی کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6933 سے ماخوذ ہے۔