حدیث نمبر: 6914
حَدَّثَنَا أبو عبد الله الأصبهانيّ، حَدَّثَنَا الحسين بن الجَهْم، حَدَّثَنَا الحسين بن الفَرَج، حَدَّثَنَا محمد بن عمر، قال: وأمُّ سلمة اسمُها هندُ بنت أبي أُمية، واسمُ أبي أُمية سُهَيل بن المغيرة بن عبد الله بن عمر بن مخزوم، وأمُّها عاتكة بنت عامر بن ربيعة بن مالك بن جَذِيمة (2) بن علقمة بن فِراس بن غَنْم بن مالك بن كِنانة، تزوَّجها أبو سلمة عبدُ الله بن عبد الأسد بن هِلال، وهاجر بها إلى أرض الحبشة في الهجرتين جميعًا، فوَلَدَت له هناك زينبَ، ووَلَدَت له بعد ذلك سلمةَ وعمر ودُرَّةَ بني أبي سَلَمة.
حافظ طلحہ بابر

محمد بن عمر سے روایت ہے کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا نام ہند بنت ابی امیہ تھا، اور ابوامیہ کا نام سہیل بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم تھا، اور ان کی والدہ عاتکہ بنت عامر بن ربیعہ بن مالک بن جذیمہ بن علقمہ بن فراس بن غنم بن مالک بن کنانہ تھیں۔ ابوسلمہ عبداللہ بن عبدالاسد بن ہلال نے ان سے نکاح کیا اور ان کے ہمراہ سرزمین حبشہ کی طرف دونوں ہجرتیں کیں، وہاں ان کے ہاں زینب پیدا ہوئیں اور اس کے بعد ابوسلمہ کی اولاد میں سے سلمہ، عمر اور درہ پیدا ہوئے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6914
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 6914] [ترقيم الشركة 6834]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: خزيمة، والتصويب من "طبقات ابن سعد" 10/ 85، و "جمهرة نسب قريش" للزبير بن بكار ص 482، وغيرهما.
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "خزیمہ" بن گیا تھا، جس کی درستی "طبقات ابن سعد" (10/ 85) اور زبیر بن بکار کی "جمہرۃ نسب قریش" (ص 482) وغیرہ سے کی گئی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6914 سے ماخوذ ہے۔