حدیث نمبر: 6858
حدَّثَناه أبو النَّضر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حَدَّثَنَا أبو عبيد القاسم بن سلّام ﵀ قال: وقد ثبت وصحَّ عندنا أنَّ رسولَ الله ﷺ تزوَّج ثمانيَ عشرةَ امرأةً: سبعٌ منهنَّ من قبائل قريش، وواحدةٌ من حُلفاء قريش، وتسعٌ من سائر قبائل العرب، وواحدةٌ من بني إسرائيلَ من بني هارونَ بن عِمرانَ أخي موسى بن عِمران. قال أبو عبيد: فأولُ من تزوَّج ﷺ من نسائه في الجاهلية خديجةُ، ثم تزوَّج بعدَ خديجة سودةَ بنتَ زَمْعة بمكة في الإسلام، ثم تزوَّج عائشةَ قبل الهجرة بسنتينِ، ثم تزوّج بالمدينة بعد وَقْعة بدرٍ سنة اثنتين من التاريخ أُمَّ سلمة، ثم تزوَّج حفصةَ بنتَ عمر أيضًا سنةَ اثنتين من التاريخ، فهؤلاءِ الخمسةُ من قريش، ثم تزوَّج في سنة ثلاثٍ من التاريخ زينبَ بنتَ جَحْش، ثم تزوّج في سنة خمسٍ من التاريخ جُوَيريَة، ثم تزوّج سنةَ ستٍّ من التاريخ أُمّ حبيبةَ بنت أبي سفيان، ثم تزوَّج في سنة سبعٍ من التاريخ صفيَّةَ بنتَ حُيَي، ثم تزوَّج ميمونةَ بنت الحارث، ثم تزوَّج فاطمةَ بنت شُرَيح، ثم تزوَّج زينبَ بنت خُزيمة، ثم تزوَّج هندَ بنت يزيد، ثم تزوَّج أسماء بنت النُّعمان، ثم تزوَّج قُتيلةَ بنت قيس أختَ الأشعث، ثم تزوَّج أسماء بنت سَنة (1) السُلَمية. ذكرُ الصحابيات من أزواج رسول الله ﷺ وغيرِهنَّ رضي الله تعالى عنهنَّ فأولُ مَن (2) نبدأُ بهنَّ: الصِّدِّيقة بنت الصِّدِّيق عائشةُ بنت أبي بكر ﵄
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6713 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

ابو عبید القاسم بن سلام رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے نزدیک یہ بات ثابت اور صحیح ہو چکی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کل اٹھارہ خواتین سے نکاح فرمایا، جن میں سے سات کا تعلق قریش کے مختلف قبائل سے تھا، ایک قریش کی حلیفہ تھیں، نو کا تعلق دیگر عرب قبائل سے تھا اور ایک بنو اسرائیل یعنی موسیٰ بن عمران کے بھائی ہارون بن عمران کی نسل سے تھیں؛ ابو عبید کہتے ہیں: ”ازواجِ مطہرات میں سب سے پہلے آپ ﷺ نے دورِ جاہلیت میں سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا، پھر اسلام کے دور میں مکہ ہی میں سیدہ سودہ بنت زمعہ سے نکاح کیا، پھر ہجرت سے دو سال قبل سیدہ عائشہ سے عقد فرمایا، پھر مدینہ تشریف آوری کے بعد سنہ 2 ہجری میں غزوہ بدر کے بعد سیدہ ام سلمہ سے نکاح کیا، اسی سال سنہ 2 ہجری میں سیدہ حفصہ بنت عمر سے نکاح فرمایا اور یہ پانچوں ازواج قریش سے تھیں، پھر سنہ 3 ہجری میں سیدہ زینب بنت جحش سے نکاح کیا، پھر سنہ 5 ہجری میں سیدہ جویریہ سے نکاح فرمایا، پھر سنہ 6 ہجری میں سیدہ ام حبیبہ بنت ابی سفیان سے نکاح کیا، پھر سنہ 7 ہجری میں سیدہ صفیہ بنت حیی سے نکاح فرمایا، اس کے بعد سیدہ میمونہ بنت حارث، پھر فاطمہ بنت شریح، پھر زینب بنت خزیمہ، پھر ہند بنت یزید، پھر اسماء بنت نعمان، پھر اشعث کی بہن قتیلہ بنت قیس اور پھر اسماء بنت سنہ سلمیہ سے نکاح فرمایا۔“ ۔ صحابیات میں سے ازواجِ مطہرات اور دیگر خواتین کا تذکرہ، جن میں سب سے پہلے ہم صدیقہ بنت صدیق سیدہ عائشہ بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے آغاز کرتے ہیں۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6858
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 6858] [ترقيم الشركة 6778] [ترقيم العلميه 6713]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) كذا وقع في النسخ الخطية: أسماء بنت سنة، وهو خطأ، صوابه سنا بنت أسماء بن الصلت كما سيأتي ذكرها عند الحديث رقم (6978)، ويأتي هناك الكلام في تحرير اسمها.
نوٹ / توضیح: (1) قلمی نسخوں میں "اسماء بنت سنۃ" لکھا ہے جو کہ غلطی ہے، درست "سنا بنت اسماء بن الصلت" ہے جیسا کہ حدیث نمبر (6978) کے تحت اس کا ذکر آئے گا، اور وہاں اس کے نام کی تحقیق پر بات ہوگی۔
(2) المثبت من (ز)، وفي بقية النسخ: ما.
نوٹ / توضیح: (2) یہ متن نسخہ (ز) سے ثابت کیا گیا ہے، جبکہ باقی نسخوں میں "ما" ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6858 سے ماخوذ ہے۔