المستدرك على الصحيحين
كتاب الطهارة— طہارت کا بیان
إذا دخل أحدكم الغائط فليقل أعوذ بالله من الرجس النجس الشيطان الرجيم باب: جب تم میں سے کوئی بیت الخلاء میں داخل ہو تو یہ دعا پڑھے: میں ناپاک اور خبیث شیطان سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔
حدیث نمبر: 681
أخبرَناه أبو الفضل الحسن بن يعقوب العَدْل، حدّثنا يحيى بن أبي طالب، أخبرنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرنا سعيد. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنَّى، حدّثنا محمد بن المِنهال، حدّثنا يزيد بن زُرَيع، حدّثنا سعيد بن أبي عَرُوبة، عن قَتَادة، عن القاسم بن عوف الشَّيْباني، عن زيد بن أرقمَ قال: قال رسول الله ﷺ: "إنَّ هذه الحُشُوشَ محتضَرة، فإذا أحدُكم دخلها فليقل: أعوذُ بك من الخُبُثِ والخَبائث" (2). كِلا الإسنادين من شرط الصحيح، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، وإنما اتَّفقا على حديث عبد العزيز بن صُهَيب عن أنس بذِكْر الاستعاذة فقط (3).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک یہ بیت الخلا (جنات اور شیاطین کی) آماجگاہ ہیں، لہٰذا جب تم میں سے کوئی وہاں جائے تو اسے چاہیے کہ یہ کہے: (اے اللہ!) میں تیری پناہ مانگتا ہوں خبیث جنوں اور خبیث جنیوں سے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ امام حاکم فرماتے ہیں کہ یہ دونوں سندیں صحیح کی شرط پر ہیں لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا، انہوں نے صرف سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی روایت پر اتفاق کیا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن إن شاء الله من أجل القاسم بن عوف الشيباني.
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، اور ان شاء اللہ یہ سند قاسم بن عوف شیبانی کی وجہ سے 'حسن' کے درجے پر ہے۔
وأخرجه النسائيّ (9822) عن إسماعيل بن مسعود، عن يزيد بن زريع، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام نسائی (9822) نے اسماعیل بن مسعود کے واسطے سے، انہوں نے یزید بن زریع سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 32/ (19331)، والنسائي (9823) من طرق عن سعيد بن أبي عروبة، به. وانظر ما قبله.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 32/ (19331) اور امام نسائی (9823) نے سعید بن ابی عروبہ کے واسطے سے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔ ماقبل کی بحث بھی دیکھ لیں۔
والخُبُث: جمع الخبيث، والخبائث: جمع الخبيثة، والمراد: ذُكْران الشياطين وإناثهم.
نوٹ / توضیح: 'الخُبُث' خبیث کی جمع ہے اور 'الخبائث' خبیثہ کی جمع ہے؛ اس سے مراد مذکر شیاطین اور مونث شیطانیاں ہیں۔
(3) أخرجه البخاريّ برقم (132) ومسلم (375).
حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری نے نمبر (132) اور امام مسلم نے نمبر (375) پر روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، اور ان شاء اللہ یہ سند قاسم بن عوف شیبانی کی وجہ سے 'حسن' کے درجے پر ہے۔
وأخرجه النسائيّ (9822) عن إسماعيل بن مسعود، عن يزيد بن زريع، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام نسائی (9822) نے اسماعیل بن مسعود کے واسطے سے، انہوں نے یزید بن زریع سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 32/ (19331)، والنسائي (9823) من طرق عن سعيد بن أبي عروبة، به. وانظر ما قبله.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 32/ (19331) اور امام نسائی (9823) نے سعید بن ابی عروبہ کے واسطے سے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔ ماقبل کی بحث بھی دیکھ لیں۔
والخُبُث: جمع الخبيث، والخبائث: جمع الخبيثة، والمراد: ذُكْران الشياطين وإناثهم.
نوٹ / توضیح: 'الخُبُث' خبیث کی جمع ہے اور 'الخبائث' خبیثہ کی جمع ہے؛ اس سے مراد مذکر شیاطین اور مونث شیطانیاں ہیں۔
(3) أخرجه البخاريّ برقم (132) ومسلم (375).
حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری نے نمبر (132) اور امام مسلم نے نمبر (375) پر روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 681 سے ماخوذ ہے۔