حدیث نمبر: 6785
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفان العامري، حدثنا زيد بن الحُبَاب، حدثنا موسى بن عُبيدة، عن أخيه عبد الله بن عُبيدة، عن عُرْوة بن الزُّبير، عن أبيه قال: كان رسولُ الله ﷺ جالسًا بقُباءٍ ومعه نَفَرٌ، فقام مصعب بن عُمير عليه بُرْدة ما تكادُ تواريه، فنَكَسَ القومُ، فجاء فسلَّم فردُّوا عليه، فقال فيه النبيُّ ﷺ خيرًا وأثنى عليه، ثم قال: "لقد رأيتُ هذا عند أبَويهِ بمكة يُكرِمانِه ويُنعِّمانِه وما فتًى من فِتيان قريش مثلَه، ثم خرج من ذلك ابتغاءَ مرضاةِ الله ونُصرةِ رسولِه، أمَا إنه لا يأتي عليكم إلَّا كذا وكذا حتى يُفتحَ عليكم فارسُ والرُّومُ، فيغدو أحدُكم في حُلَّة ويروحُ في حُلَّة، ويُغدَى عليكم بقَصْعةٍ ويُراحُ عليكم بقَصْعة"، قالوا: يا رسولَ الله، نحن اليومَ خيرٌ أو ذلك اليومَ؟ قال: "بل أنتم اليومَ خيرٌ منكم ذلك اليومَ، أما لو تعلمون من الدنيا ما أعلمُ، لاستراحَتْ أنفسُكم منها" (1). ذكرُ أبي سَلَمة بن عبد الأسد المخزومي ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6640 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عروہ بن زبیر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ قباء میں چند لوگوں کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ اسی اثنا میں سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ سامنے آئے جنہوں نے ایک ایسی چادر اوڑھی ہوئی تھی جو ان کے پورے بدن کو بمشکل چھپا رہی تھی، تو لوگوں نے (ان کی تہی دستی دیکھ کر) سر جھکا لیے، انہوں نے آ کر سلام کیا تو لوگوں نے سلام کا جواب دیا، پھر نبی کریم ﷺ نے ان کے بارے میں کلماتِ خیر ارشاد فرمائے اور ان کی تعریف کی، پھر فرمایا: ”میں نے اسے مکہ میں اپنے والدین کے پاس دیکھا ہے جہاں وہ اسے بڑی عزت اور ناز و نعمت میں رکھتے تھے اور قریش کا کوئی جوان اس جیسا (خوبصورت و خوشحال) نہ تھا، پھر یہ سب کچھ چھوڑ کر صرف اللہ کی رضا اور اس کے رسول کی نصرت کے لیے نکل کھڑا ہوا، یاد رکھو! تم پر ایسا وقت آئے گا جب فارس اور روم فتح کر لیے جائیں گے، تم میں سے کوئی صبح کو ایک لباس پہنے گا تو شام کو دوسرا، اور صبح و شام تمہارے سامنے (لذیذ کھانوں کے) پیالے بھر بھر کر لائے جائیں گے۔“ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم اس دن بہتر ہوں گے یا آج؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ تم آج کے دن ان (آنے والے) دنوں سے بہتر ہو، کیونکہ اگر تم دنیا کی وہ حقیقت جان لو جو میں جانتا ہوں، تو تمہارے نفس اس سے بیزار ہو جائیں۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6785
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل موسى بن عبيدة، وهو الربذي، والحديث عند من أخرجه إنما هو من مرسل عروة، ليس فيه أبوه الزبير.» [ترقيم الرساله 6785] [ترقيم الشركة 6705] [ترقيم العلميه 6640]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل موسى بن عبيدة، وهو الربذي، والحديث عند من أخرجه إنما هو من مرسل عروة، ليس فيه أبوه الزبير.
درجۂ حدیث: یہ روایت "حسن لغیرہ" ہے، تاہم یہ مخصوص سند موسیٰ بن عبیدہ الربذی کی وجہ سے ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: دیگر محدثین کے ہاں یہ روایت "مرسل عروہ" کے طور پر ہے، جس میں ان کے والد حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں ہے۔
وأخرجه تامًا ومختصرًا المعافى بنُ عمران في "الزهد" (211)، وابن أبي الدنيا في "الزهد" (507)، وفي "ذم الدنيا" (428)، وفي "الأولياء" (78)، وابن سَمعون الواعظ في "الأمالي" (158)، والبيهقي في "شعب الإيمان" (9846) و (9847) من طرق عن زيد بن الحباب، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے معافی بن عمران نے "الزہد" (211)، ابن ابی الدنیا نے "الزہد" (507)، "ذم الدنیا" (428) اور "الاولیاء" (78) میں، ابن سمعون نے "الامالی" (158) اور بیہقی نے "شعب الایمان" (9846، 9847) میں زید بن الحباب کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ مکمل اور مختصر طور پر روایت کیا ہے۔
ويشهد له حديث علي عند الترمذي (2476) وغيره، وإسناده حسن في المتابعات والشواهد، وحسنه الترمذي.
متابعات و شواہد: اس کی تائید حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ہوتی ہے جو سنن ترمذی (2476) وغیرہ میں ہے۔
درجۂ حدیث: متابعات و شواہد کی بنیاد پر اس کی سند حسن ہے، اور امام ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔
ويشهد لقصة مصعب بن عمير حديث إبراهيم بن محمد العبدري عن أبيه مرسلًا فيما سلف برقم (4965)، وإسناده ضعيف.
متابعات و شواہد: حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کے قصے کی شاہد ابراہیم بن محمد العبدری عن ابیہ کی "مرسل" روایت ہے جو پہلے حدیث نمبر (4965) پر گزر چکی ہے، اگرچہ اس کی سند ضعیف ہے۔
وانظر حديث طلحة النصري السالف برقم (4336)، وذكرنا عنده أحاديث الباب.
نوٹ / توضیح: اس باب کی دیگر احادیث کے لیے حضرت طلحہ النصری رضی اللہ عنہ کی سابقہ حدیث نمبر (4336) ملاحظہ فرمائیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6785 سے ماخوذ ہے۔