المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ مُجَاشِعِ بْنِ مَسْعُودٍ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: سیدنا مجاشع بن مسعود سلمی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
حدیث نمبر: 6725
أخبرني أحمد بن يعقوب، حدثنا موسى بن زكريا، حدثنا خَليفة بن خيَّاط قال: مُجاشِع بن مسعود بن ثعلبة بن وهب بن عائذ بن ربيعة، يُكنى أبا سليمان، وأمُّه وأمُّ أخيه مُجالِدٍ مُلَيكةُ بنت سفيان بن الحارث بنْ أَسد (1) بن خُزيمة، قُتل مُجاشِعٌ يوم الجمل الأصغر سنةَ ستٍّ وثلاثين، ودُفِنَ في دارِه في بني سُليم حضرةَ بني سَدُوس، وله بالبصرة غيرُ دار، فمنها دارُه بحضرة مسجدِ الجامع.
حافظ طلحہ بابر
خلیفہ بن خیاط سے مروی ہے کہ: مجاشع بن مسعود بن ثعلبہ بن وہب بن عائذ بن ربیعہ، ان کی کنیت ابوسلیمان تھی، ان کی اور ان کے بھائی مجالد کی والدہ ملیکہ بنت سفیان بن حارث بن اسد بن خزیمہ تھیں، مجاشع سنہ 36 ہجری میں جملِ اصغر کے دن شہید ہوئے اور بنو سلیم میں بنو سدوس کے قریب اپنے گھر میں دفن ہوئے، بصرہ میں ان کے ایک سے زائد گھر تھے جن میں سے ایک جامع مسجد کے پاس تھا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: لبيد، وأثبتناه على الصواب من "طبقات خليفة" ص 49.
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "لبید" ہو گیا تھا، جسے ہم نے خلیفہ بن خیاط کی "الطبقات" ص 49 کی روشنی میں درست کر کے متن میں درج کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "لبید" ہو گیا تھا، جسے ہم نے خلیفہ بن خیاط کی "الطبقات" ص 49 کی روشنی میں درست کر کے متن میں درج کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6725 سے ماخوذ ہے۔