المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ زِيَادِ بْنِ لَبِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: سیدنا زیاد بن لبید انصاری رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا بشر بن موسى، حدثنا يحيى ابن إسحاق السَّيلَحِيني، حدثنا عبد العزيز بن مسلم، عن الأعمش، عن سالم بن أبي الجَعْد، عن زياد بن لَبِيد الأنصاري قال: أَتيتُ النبيَّ ﷺ وهو يُحدِّث أصحابَه وهو يقول: "قد ذَهَبَ أَوَانُ العِلْم"، قلت: بأَبي وأُمِّي، وكيف يذهبُ أَوانُ العلم ونحن نقرأُ القرآنَ ونعلِّمُه أبناءَنا، ويعلِّمُه أبناؤُنا أبناءَهم إلى أن تقومَ الساعةُ؟! فقال: "ثَكِلَتكَ أَمُّك يا ابن لَبِيدٍ، إنْ كنتُ لأراك من أفقهِ أهلِ المدينة، أوَليسَ اليهودُ والنصارى يَقرؤُون التوراةَ والإنجيلَ ولا يَنتِفعون منهما بشيءٍ؟ " (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. ذكرُ عُمَارة بن حَزْم الأنصاري ﵁-
سیدنا زیاد بن لبید انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ اپنے صحابہ سے گفتگو فرما رہے تھے اور فرما رہے تھے: ”علم (کے رخصت ہونے) کا وقت آ گیا ہے۔“ میں نے عرض کی: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، علم کیسے رخصت ہو گا جبکہ ہم قرآن پڑھتے ہیں، اپنے بیٹوں کو پڑھاتے ہیں اور ہمارے بیٹے اپنے بیٹوں کو قیامت تک پڑھاتے رہیں گے؟! آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابن لبید! تمہاری ماں تمہیں گم پائے (یعنی تم کیسی بات کر رہے ہو)، میں تو تمہیں اہل مدینہ میں سب سے زیادہ سمجھدار سمجھتا تھا، کیا یہودی اور نصرانی تورات اور انجیل نہیں پڑھتے لیکن وہ ان سے ذرہ برابر بھی فائدہ نہیں اٹھاتے؟“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: یہ روایت "صحیح لغیرہ" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس سند کے راوی اگرچہ ثقہ ہیں، لیکن سالم اور زیاد بن لبید کے درمیان انقطاع (سلسلہ ٹوٹا ہوا) ہے۔
وأخرجه أحمد 29/ (17473) و (17919)، وابن ماجه (4048) من طريق وكيع، عن الأعمش، بهذا الإسناد. وسيأتي برقم (6695/ 3). وسلف برقم (343) من طريق عمرو بن مرة عن سالم بن أبي الجعد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 29/ (17473، 17919) اور ابن ماجہ (4048) نے وکیع عن الاعمش کی سند سے روایت کیا ہے۔
نوٹ / توضیح: یہ آگے نمبر (6695/ 3) پر آئے گی اور پہلے نمبر (343) پر عمرو بن مرہ عن سالم بن ابی الجعد کے طریق سے گزر چکی ہے۔