المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
نَهْيُ النَّبِيِّ عَبْدَ اللهِ عَنْ قَتْلِ أَبِيهِ باب: نبی کریم ﷺ کا سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ کو اپنے والد کو قتل کرنے سے منع کرنا
حدیث نمبر: 6634
أخبرني أبو عبد الله محمد بن أحمد بن موسى الخازنُ، حدثنا إبراهيم ابن يوسف، حدثنا محمد بن أبي السَّريِّ، حدثنا عَبْدةُ بن سليمان، عن هشام بن عُزوة، عن أبيه، عن عبد الله بن عبد الله بن أُبيٍّ ابنِ سَلُولَ: أنه استأْذَنَ النبيَّ ﷺ أن يقتل أباه، فنَهَاه عن ذلك (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عبداللہ بن ابی بن سلول رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے اپنے باپ کو قتل کرنے کی اجازت طلب کی، تو آپ ﷺ نے انہیں اس سے منع فرما دیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حسن لغيره كسابقه، وإسناده رجاله ثقات غير محمد بن أبي السري -وهو محمد بن المتوكل العسقلاني- فصدوق إبراهيم بن يوسف: هو الهِسِنجاني.
درجۂ حدیث: پچھلی روایت کی طرح یہ بھی "حسن لغیرہ" ہے، اس کے تمام راوی ثقہ ہیں سوائے محمد بن ابی السری (محمد بن متوکل عسقلانی) کے جو کہ صدوق ہیں۔
اہم نکتہ: ابراہیم بن یوسف سے مراد "الہسنجانی" ہیں۔
درجۂ حدیث: پچھلی روایت کی طرح یہ بھی "حسن لغیرہ" ہے، اس کے تمام راوی ثقہ ہیں سوائے محمد بن ابی السری (محمد بن متوکل عسقلانی) کے جو کہ صدوق ہیں۔
اہم نکتہ: ابراہیم بن یوسف سے مراد "الہسنجانی" ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6634 سے ماخوذ ہے۔