المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
الْفُرْقَانُ هُوَ الشَّافِعُ وَالْمُشَفَّعُ باب: قرآن شفاعت کرنے والا بھی ہے اور جس کی شفاعت قبول کی جائے وہ بھی ہے
حدیث نمبر: 6615
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق الإمامُ وعلي بن حَمْشَاذَ العَدْل قالا: أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا حجَّاج بن مِنْهال، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، حدثنا أبو عِمران الجَوْني، عن علقمة بن عبد الله المُزَنِي، عن معقل بن يسار: أَنَّ عمر بن الخطَّاب شاوَرَ الهُرمُزانَ في أصبهانَ وفارسَ وأَذرِبَيجانَ، فقال: يا أمير المؤمنين، أصبهانُ الرأسَ (3). ذكرُ عبد الله بن مُغَفَّل المُزَنِي ﵁ -
حافظ طلحہ بابر
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہرمزان سے اصفہان، فارس اور آذربائیجان کی مہمات کے متعلق مشورہ کیا، تو اس نے کہا: اے امیر المؤمنین! اصفہان (فارس کے جسم میں) سر کی مانند ہے۔
سیدنا عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ کا ذکر۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده صحيح. وقد سلف بأطول ممّا هنا برقم (5362) عن علي بن حمشاذ وحده.
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
نوٹ / توضیح: یہ روایت اس سے زیادہ تفصیلی صورت میں پہلے نمبر (5362) پر گزر چکی ہے، جسے صرف علی بن حمشاذ نے روایت کیا تھا۔
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
نوٹ / توضیح: یہ روایت اس سے زیادہ تفصیلی صورت میں پہلے نمبر (5362) پر گزر چکی ہے، جسے صرف علی بن حمشاذ نے روایت کیا تھا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6615 سے ماخوذ ہے۔