المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
سَخَاوَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ باب: سیدنا عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کی سخاوت
أخبرنا الحسن بن محمد بن إسحاق، حدثنا محمد بن زكريا الغَلَابي، حدثنا ابن عائشة قال: دخل زيادٌ الأعجمُ على عبد الله بن جعفر في خمس دِيَاتٍ، فأعطاه، فأنشأَ يقول: سألْناه الجزيلَ فما تَلَكَّا … وأعطَى فوقَ مُنْيتِنا وزادا وأحسَنَ ثمَّ أحسَنَ ثمَّ عُدْنا … فأحسَنَ ثمَّ عدتُ له فعَادا مِرارًا ما أعودُ الدَّهْرَ إِلَّا … تَبَسَّمَ ضاحكًا وثَنَى الوِسَادا قد اتَّفق البخاريُّ ومسلمٌ على سَمَاع عبد الله بن جعفر بن أبي طالب من رسول الله ﷺ وهو ابنُ عَشر سنين، وأنا ذاكرٌ بمشيئة الله ﷿ في هذا الموضع بيان ما اتَّفَقا عليه بأسانيدِها:
ابن عائشہ سے روایت ہے کہ زیاد اعجم، سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کے پاس پانچ مقتولین کی دیت (خون بہا) کی ادائیگی میں مدد کے لیے حاضر ہوئے، تو آپ نے وہ رقم انہیں عطا فرما دی، جس پر شاعر نے یہ اشعار کہے: ”ہم نے ان سے بھاری رقم کا سوال کیا تو انہوں نے ذرا بھی تامل نہ کیا، اور ہماری تمنا و امید سے بڑھ کر عطا فرمایا، انہوں نے احسان کیا پھر احسان کیا اور جب ہم دوبارہ پلٹے تو پھر احسان فرمایا، میں جب بھی ان کے پاس دوبارہ گیا انہوں نے مسکراتے ہوئے میرا استقبال کیا اور (عزت افزائی کے لیے) تکیہ دہرا کیا۔“
امام حاکم فرماتے ہیں: امام بخاری اور امام مسلم اس بات پر متفق ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہما نے دس سال کی عمر میں رسول اللہ ﷺ سے سماع کیا ہے، اور میں اللہ کے حکم سے اس مقام پر ان احادیث کو ان کی اسناد کے ساتھ ذکر کر رہا ہوں جن پر شیخین متفق ہیں۔