حدیث نمبر: 6524
حدثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حدثنا الحسن بن الجَهْم بن مَصقَلة، حدثنا الحسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر قال: سلمةُ بنُ الأكوَع، واسمُ الأكوَع سِنانُ بنُ عبد الله بن قُشَير (2) بن خُزيمة بن مالك بن سَلَامان بن أسلمَ بن أَفْصَى. ذُكِرَ عنه أنه قال: غزوتُ مع رسول الله ﷺ سبعَ غَزَواتٍ، ومع زيد بن حارثة تسعَ غَزَوات، يُؤمِّرُه رسول الله علينا (3). قال ابن عمر: وسمعتُ أنَّ سلمة كان يُكنى أبا إياس. قال: وحدثني عبد العزيز ابن عُقبة، عن إياس بن سَلَمة قال: تُوفِّي أبي سلمةُ بن الأكوَع بالمدينة سنة أربع وسبعين وهو ابنُ ثمانين سنة (4).
حافظ طلحہ بابر

سلمہ بن اکوع (جن کا نام سنان بن عبداللہ تھا) کے متعلق محمد بن عمر کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ سات غزوات میں شرکت کی اور سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں نو جنگیں لڑیں جن میں رسول اللہ ﷺ نے انہیں ہمارا امیر مقرر فرمایا تھا۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ان کی کنیت ابوعیاس تھی اور ان کے صاحبزادے ایاس بن سلمہ کے مطابق ان کے والد کی وفات 74 ہجری میں مدینہ منورہ میں ہوئی جبکہ ان کی عمر اسی برس تھی۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6524
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 6524] [ترقيم الشركة 6447]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) هكذا في (م)، وفي (ص) و (ب): بشير بالباء في أوله، وكلاهما قيل في اسمه كما في "تهذيب الكمال" 11/ 301.
فنی نکتہ / علّت: (2) نسخہ (م) میں اسی طرح ہے، جبکہ نسخہ (ص) اور (ب) میں یہ شروع میں باء کے ساتھ "بشیر" ہے، اور "تہذیب الکمال" 11/ 301 کے مطابق ان کے نام میں یہ دونوں قول کہے گئے ہیں۔
(3) أخرجه البخاري (4272)، وابن حبان (7174) من طريق يزيد بن أبي عبيد عن سلمة.
حوالہ / مصدر: (3) اسے بخاری (4272) اور ابن حبان (7174) نے یزید بن ابی عبید کے طریق سے، سلمہ سے تخریج کیا ہے۔
(4) قال الذهبي في "تلخيصه": الظاهر أنه عاش أكثر من هذا، لأنه بايع تحت الشجرة سنة ستٍّ وهو رجل.
فنی نکتہ / علّت: (4) ذہبی نے اپنی "تلخیص" میں فرمایا: "ظاہر یہ ہے کہ وہ اس سے زیادہ عرصہ زندہ رہے، کیونکہ انہوں نے سن 6 ہجری میں (بیعتِ رضوان میں) درخت کے نیچے بیعت کی تھی اور وہ اس وقت (بالغ) مرد تھے۔"
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6524 سے ماخوذ ہے۔