المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ خُبْثِ الْحَجَّاجِ وَالِاخْتِلَافِ فِي إِسْلَامِهِ باب: حجاج کی خباثت کا ذکر اور اس کے اسلام میں اختلاف
حدیث نمبر: 6489
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا محمد بن يونس القُرشي، حدثنا المؤمَّل بن إسماعيل، حدثنا سفيان الثَّوْري، عن سَلَمة بن كُهيل قال: اختلفتُ أنا وذرٌّ المُرهِبي في الحجَّاج، فقال: مؤمنٌ، وقلت: كافرٌ (2). وبيانُ صحَّتِه ما أَطلق فيه مجاهدُ بن جَبْر ﵁:
حافظ طلحہ بابر
سلمہ بن کہیل کہتے ہیں کہ میرا اور ذر مرہبی کا حجاج بن یوسف کے متعلق اختلاف ہوا، انہوں نے اسے مومن کہا جبکہ میں نے اسے کافر قرار دیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) محمد بن يونس القرشي: هو الكُديمي، وهو ضعيف جدًّا، واتُّهم بالكذب.
فنی نکتہ / علّت: یہ راوی محمد بن یونس القرشی ہے، جو "الکُدیمی" کے لقب سے معروف ہے۔
درجۂ حدیث: یہ راوی انتہائی ضعیف (ضعيف جدًّا) ہے اور اس پر کذب بیانی (جھوٹ بولنے) کا الزام لگایا گیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: یہ راوی محمد بن یونس القرشی ہے، جو "الکُدیمی" کے لقب سے معروف ہے۔
درجۂ حدیث: یہ راوی انتہائی ضعیف (ضعيف جدًّا) ہے اور اس پر کذب بیانی (جھوٹ بولنے) کا الزام لگایا گیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6489 سے ماخوذ ہے۔