حدیث نمبر: 6484M
قال ابن عمر: وقُتِل عبد الله بن الزُّبير ﵁ يومَ الثلاثاء لِتسعَ عشرةَ مضت من جُمادَى الأولى سنة ثلاث وسبعين، حَمَلَ على أهل الشام فرُميَ بآجُرَّةٍ فأصابته في وجهه، فأُرعِشَ ودَمِي، فَسَقَطَ، فأُخبر الحجّاجُ فسجد، ثم جاء حتى وَقَفَ عليه هو وطارقُ بن عمرو، فقال طارق: ما وَلَدَت النساءُ أذكرَ من هذا.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما منگل کے دن 19 جمادی الاول 73 ہجری کو شہید کیے گئے۔ انہوں نے اہل شام پر حملہ کیا تو انہیں ایک اینٹ ماری گئی جو ان کے چہرے پر لگی، جس سے وہ تھرتھرائے، خون آلود ہوئے اور گر گئے۔ جب حجاج کو ان کی شہادت کی خبر دی گئی تو اس نے سجدہ کیا، پھر وہ اور طارق بن عمرو آئے اور ان کے پاس کھڑے ہوئے، تو طارق نے کہا: عورتوں نے اس سے زیادہ بہادر مرد پیدا نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6484M
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 6484M] [ترقيم الشركة 6407]