المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ شَجَاعَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ باب: سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی شجاعت کا ذکر
حدیث نمبر: 6484
قال ابن عمر: وحدثني أبو القاسم بن علي القُرشي قال: سُئِلَ المهلَّبُ عن الشُّجَعَاءِ فقال: ابنُ الكَلْبية - يعني مصعبَ بن الزُّبير - وأَحَدُ بني تَميم - يعني عمرَ بن عُبيد الله بن مَعمَر - وعبَّادُ بن حُصَين الحَبَطي، فقيل له: فأين أنت عن عبد الله بن الزُّبير وعبد الله بن خازمٍ؟ فقال: إنما كنَّا في ذكر الإنس، ولم نكن في ذِكْر الجنّ (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ مہلب سے بہادروں کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: ابن الکلبیہ (یعنی مصعب بن زبیر)، بنو تمیم کا ایک شخص (یعنی عمر بن عبید اللہ بن معمر) اور عباد بن حصین حبتی۔ ان سے کہا گیا: آپ عبداللہ بن زبیر اور عبداللہ بن خازم کو کیوں بھول گئے؟ تو انہوں نے جواب دیا: ہم تو انسانوں کا ذکر کر رہے تھے، ہم جنات کا ذکر نہیں کر رہے تھے (یعنی ان کی بہادری انسانی حدود سے ماورا تھی)۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) ذكره ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 45/ 292 من وجه آخر عن المهلب بن أبي صُقرة.
حوالہ / مصدر: اسے ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" 45/ 292 میں مہلب بن ابی صُفرہ سے ایک دوسرے طریق سے ذکر کیا ہے۔
حوالہ / مصدر: اسے ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" 45/ 292 میں مہلب بن ابی صُفرہ سے ایک دوسرے طریق سے ذکر کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6484 سے ماخوذ ہے۔