❮
❯
حدیث نمبر: 6484
قال ابن عمر: وحدثني أبو القاسم بن علي القُرشي قال: سُئِلَ المهلَّبُ عن الشُّجَعَاءِ فقال: ابنُ الكَلْبية - يعني مصعبَ بن الزُّبير - وأَحَدُ بني تَميم - يعني عمرَ بن عُبيد الله بن مَعمَر - وعبَّادُ بن حُصَين الحَبَطي، فقيل له: فأين أنت عن عبد الله بن الزُّبير وعبد الله بن خازمٍ؟ فقال: إنما كنَّا في ذكر الإنس، ولم نكن في ذِكْر الجنّ (2).
حافظ طلحہ بابر

محمد بن عمر (واقدی) سے روایت ہے کہ مہلب سے بہادروں کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: ابن الکلبیہ (یعنی مصعب بن زبیر)، بنو تمیم کا ایک شخص (یعنی عمر بن عبید اللہ بن معمر) اور عباد بن حصین حبتی۔ ان سے کہا گیا: آپ عبداللہ بن زبیر اور عبداللہ بن خازم کو کیوں بھول گئے؟ تو انہوں نے جواب دیا: ہم تو انسانوں کا ذکر کر رہے تھے، ہم جنات کا ذکر نہیں کر رہے تھے (یعنی ان کی بہادری انسانی حدود سے ماورا تھی)۔

قال ابن عمر: وقُتِل عبد الله بن الزُّبير ﵁ يومَ الثلاثاء لِتسعَ عشرةَ مضت من جُمادَى الأولى سنة ثلاث وسبعين، حَمَلَ على أهل الشام فرُميَ بآجُرَّةٍ فأصابته في وجهه، فأُرعِشَ ودَمِي، فَسَقَطَ، فأُخبر الحجّاجُ فسجد، ثم جاء حتى وَقَفَ عليه هو وطارقُ بن عمرو، فقال طارق: ما وَلَدَت النساءُ أذكرَ من هذا.
حافظ طلحہ بابر

محمد بن عمر (واقدی) بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما منگل کے دن 19 جمادی الاول 73 ہجری کو شہید کیے گئے۔ انہوں نے اہل شام پر حملہ کیا تو انہیں ایک اینٹ ماری گئی جو ان کے چہرے پر لگی، جس سے وہ تھرتھرائے، خون آلود ہوئے اور گر گئے۔ جب حجاج کو ان کی شہادت کی خبر دی گئی تو اس نے سجدہ کیا، پھر وہ اور طارق بن عمرو آئے اور ان کے پاس کھڑے ہوئے، تو طارق نے کہا: عورتوں نے اس سے زیادہ بہادر مرد پیدا نہیں کیا۔

حوالہ حدیث مستدرکِ حاکم / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6484
درجۂ حدیث محدثین: من فوق الواقدي لا بأس بهم
تخریج حدیث «من فوق الواقدي لا بأس بهم، وقد سبق الكلام على سلسلة الإسناد هذه إلى الواقدي برقم (4060).» [ترقيم الرساله 6484] [ترقيم الشركة 6407]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) ذكره ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 45/ 292 من وجه آخر عن المهلب بن أبي صُقرة.
حوالہ / مصدر: اسے ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" 45/ 292 میں مہلب بن ابی صُفرہ سے ایک دوسرے طریق سے ذکر کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6484 سے ماخوذ ہے۔