مستدرکِ حاکم
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ شَجَاعَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ باب: سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی شجاعت کا ذکر
قال ابن عمر: وحدثني أبو القاسم بن علي القُرشي قال: سُئِلَ المهلَّبُ عن الشُّجَعَاءِ فقال: ابنُ الكَلْبية - يعني مصعبَ بن الزُّبير - وأَحَدُ بني تَميم - يعني عمرَ بن عُبيد الله بن مَعمَر - وعبَّادُ بن حُصَين الحَبَطي، فقيل له: فأين أنت عن عبد الله بن الزُّبير وعبد الله بن خازمٍ؟ فقال: إنما كنَّا في ذكر الإنس، ولم نكن في ذِكْر الجنّ (2).
محمد بن عمر (واقدی) سے روایت ہے کہ مہلب سے بہادروں کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: ابن الکلبیہ (یعنی مصعب بن زبیر)، بنو تمیم کا ایک شخص (یعنی عمر بن عبید اللہ بن معمر) اور عباد بن حصین حبتی۔ ان سے کہا گیا: آپ عبداللہ بن زبیر اور عبداللہ بن خازم کو کیوں بھول گئے؟ تو انہوں نے جواب دیا: ہم تو انسانوں کا ذکر کر رہے تھے، ہم جنات کا ذکر نہیں کر رہے تھے (یعنی ان کی بہادری انسانی حدود سے ماورا تھی)۔
قال ابن عمر: وقُتِل عبد الله بن الزُّبير ﵁ يومَ الثلاثاء لِتسعَ عشرةَ مضت من جُمادَى الأولى سنة ثلاث وسبعين، حَمَلَ على أهل الشام فرُميَ بآجُرَّةٍ فأصابته في وجهه، فأُرعِشَ ودَمِي، فَسَقَطَ، فأُخبر الحجّاجُ فسجد، ثم جاء حتى وَقَفَ عليه هو وطارقُ بن عمرو، فقال طارق: ما وَلَدَت النساءُ أذكرَ من هذا.
محمد بن عمر (واقدی) بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما منگل کے دن 19 جمادی الاول 73 ہجری کو شہید کیے گئے۔ انہوں نے اہل شام پر حملہ کیا تو انہیں ایک اینٹ ماری گئی جو ان کے چہرے پر لگی، جس سے وہ تھرتھرائے، خون آلود ہوئے اور گر گئے۔ جب حجاج کو ان کی شہادت کی خبر دی گئی تو اس نے سجدہ کیا، پھر وہ اور طارق بن عمرو آئے اور ان کے پاس کھڑے ہوئے، تو طارق نے کہا: عورتوں نے اس سے زیادہ بہادر مرد پیدا نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
حوالہ / مصدر: اسے ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" 45/ 292 میں مہلب بن ابی صُفرہ سے ایک دوسرے طریق سے ذکر کیا ہے۔