حدیث نمبر: 6474M
رَجَعْنا إلى باقي الحديث (4): وضَرَبَ ابنُ الزُّبير فسطاطًا في المسجد، فكان فيه نساءٌ يَسقِينَ الجرحى ويُداوينَهم ويُطعِمنَ الجائع، ويَكمُنُ إليهنَّ المجروحُ، فقال حُصَين: ما يزالُ يخرج علينا من ذلك الفُسطاطِ أسدٌ كأنما يخرج من عَرينِه، فمن يَكِفنيهِ؟ فقال رجل من أهل الشام: أنا، فلما جَنَّ عليه الليلُ وَضَعَ شمعةً في طرف رمحه ثم ضرب فرسَه، ثم طَعَنَ الفسطاطَ فالتهَبَ نارًا، والكعبةُ يومئذٍ مُؤَزَّرة في الطَّنافس، وعلى أعلاها الحِبَرَةُ، فطارت الريحُ باللَّهَب على الكعبة حتى احترقت، واحترق فيها يومئذٍ قَرْنا الكبش الذي فُدِيَ به إسحاق. قال: فبلَغَ حُصينَ بن نُمير موتُ يزيد بن معاوية، فهرب حصينُ بنُ نُمير، فلما مات يزيدُ بن معاوية دعا مروانُ بن الحَكَم إلى نفسه، فأجابه أهلُ حِمْص وأهلُ الأردنِّ وفلسطينَ، فوَجَّه إليه ابنُ الزُّبير الضحاكَ بنَ قيس الفِهْريَّ في مئة ألف، فالتقَوْا بمَرْجِ راهطٍ، ومروانُ يومئذٍ في خمسة آلاف من بني أُميَّة ومَواليهِم وأتباعهم من أهل الشام، فقال مروانُ لمولًى له [يقال له] (1): كره: احمِلْ على أيِّ الطَّرفين شئتَ، فقال: كيف نَحملُ على هؤلاء؟! لكَثرتِهم، فقال: هم بين مُكرهٍ ومُستأجَر، احمِلْ عليهم لا أمَّ لك، فيكفيك الطِّعانُ الناجعُ الجيِّد، وهم يَكفُونك بأنفسهم، إنما هؤلاء عَبيدُ الدينار والدِّرهم، فحَمَلَ عليهم فهَزَمَهم، وقُتِل الضحاكُ بن قيس وانصَدَعَ الجيشُ، ففي ذلك يقول زُفَرُ بنُ الحارث: لَعَمْري لقد أبقَتْ وَقِيعةُ راهطٍ … لمروانَ صَرْعى واقعاتٍ وسابَيَا أَمضي سلاحي لا أبالكِ إنني … لدى الحربِ لا يزداد إلَّا تمادِيَا فقد يَنبُت المَرْعى على دِمَنِ الثَّرى … وتبقى حُزازاتُ النفوسِ كما وفيه يقول أيضًا: أفي الحقِّ أمَّا بَحدلٌ وابنُ بَحدلٍ … فيَحْيا وأمَّا ابنُ الزُّبير فيُقتَلُ كَذَبتم وبيتِ الله لا تَقتلونَهُ … ولمَّا يَكُنْ يومٌ أَغَرُّ مُحجَّلُ ولمَّا يكنْ للمَشْرَفِيَّةِ فيكمُ … شُعاعٌ كنُورِ الشمسِ حين تَرجَّلُ قال: ثم مات مروانُ، فدعا عبدُ الملك إلى نفسه وقام، فأجابه أهلُ الشام، فخَطَبَ على المنبر وقال: مَن لابن الزُّبير؟ فقال الحجَّاج: أنا يا أميرَ المؤمنين، فأسكَتَه، ثم عاد فأسكَتَه، ثم عاد فقال: أنا له يا أميرَ المؤمنين، فإني رأيتُ في المنام كأني انتزعتُ جُبَّتَه فلَبِستُها. فعَقَدَ له ووَجَّهه في الجيش إلى مكة - حَرسها الله تعالى- حتى وَرَدَها على ابن الزُّبير فقاتله بها، فقال ابنُ الزبير لأهل مكة: احفَظُوا هذين الجبلين، فإنكم لن تَزالوا بخير أعزَّةً ما لم يَظهَروا عليهما، قال: فلم يَلبَثُوا أَن ظَهَرَ الحَجَّاجُ ومَن معه على أبي قُبيس، ونَصَبَ عليه المَنجَنيقَ، فكان يرمي به ابنَ الزبير ومن معه في المسجد، فلما كان الغَدَاةُ التي قُتِلَ فيها ابنُ الزُّبير، دَخَلَ ابنُ الزُّبير على أمِّه أسماءَ بنت أبي بكر، وهي يومئذٍ بنتُ مئة سنةٍ لم يَسقُطْ لها سنٌّ، ولم يَفسُدْ لها بصرٌ ولا سمعٌ، فقالت لابنها: يا عبد الله، ما فعلتَ في حربِك؟ قال: بَلَغُوا مكانَ كذا وكذا، قال: وضَحِكَ ابنُ الزبير وقال: إنَّ في الموت لراحةً، فقالت: يا بنيَّ، لعلَّك تتمنَّاه لي؟! ما أُحِبُّ أن أموتَ حتى آتيَ على أحدِ طَرَفَيك، إمَّا أن تَملِكَ (1) فتَقَرَّ بذلك عيني، وإمَّا أن تُقتَل فأَحتسِبَك، قال: ثم ودَّعها، فقالت له: يا بنيَّ، إياك أن تُعطِيَ خَصْلةً من دِينِك مخافةَ القتل. وخَرَج عنها فدَخَل المسجد، وقد جعل مِصراعَينِ على الحجر الأسود يتَّقي أن يصيبَه المَنجنيقُ. وأتى ابن الزُّبير آتٍ وهو جالسٌ عند زمزمَ فقال له: ألا نفتحُ لك الكعبةَ فتصعدَ فيها، فنظر إليه عبدُ الله ثم قال له: من كل شيءٍ تَحفَظُ أخاك إِلَّا من نفسه. يعني من أجَلِه- وهل للكعبة حُرْمةٌ ليست لهذا المكان؟! والله لو وَجَدُوكم مُعلَّقِين بأستار الكعبةِ لقَتَلوُكم، فقيل له: ألا تكلِّمُهم في الصُّلح؟ فقال: أوَحِينُ صُلحٍ هذا؟! والله لو وَجَدُوكم في جوفها لذَبَحُوكم جميعًا، ثم أنشأَ يقول: ولستُ بمبتاعِ الحياةِ لسُبَّةٍ … ولا مُرتَقٍ من خَشْية الموتِ سُلَّما أُنافسُ [سَهمًا] إِنَّه غيرُ نازحٍ … مُلَاقِي المَنَايَا أَيَّ صَرْفٍ تَيمَّما ثم أقبل على آل الزبير يَعِظُهم: ليَكُنَّ أحدكم سيفه كما يَكُنُّ وجهَه، لا يُنكِّسْ سيفَه فيدفعَ عن نفسه بيده كأنه امرأةٌ، والله ما لَقِيتُ زَحْفًا قطُّ إلَّا في الرَّعيل الأول، ولا أَلمِتُ جُرحًا قطُّ إلَّا أن آلَمَ الدواء. قال: فبينما هم كذلك إذ دخل عليهم نفرٌ من [باب] بني جُمَحَ فيهم أسوَدُ، فقال: مَن هؤلاءِ؟ قيل: أهلُ حِمص، فحَمَل عليهم ومعه سبعون، فأولُ من لقيَه الأسودُ، فضربه بسيفه حتى أطَنَّ رِجلَه، فقال له الأسود: آهٍ يا ابنَ الزانية، فقال له ابنُ الزُّبير: اخسأْ يا ابن حامٍ، لَأسماءُ زانيةٌ؟! ثم أخرَجَهم من المسجد، فانصرف، فإذا بقومٍ قد دَخَلوا من باب بني سَهْم، فقال: من هؤلاء؟ فقيل: أهلُ الأُردنِّ، فحَمَلَ عليهم وهو يقول: لا عهدَ لي بغَارةٍ مثلِ السَّيلْ … لا يَنجِلي غُبارُها حتَّى اللَّيلْ قال: فأخرجهم من المسجد، ثم رجع، فإذا بقوم قد دَخَلوا من باب بني مخزوم، فحَمَل عليهم وهو يقول: لو كان قِرْني واحدًا لكَفَيتُهُ قال: وعلى ظَهْر المسجد من أعوانِه مَن يرمي عدوَّه بالآجُرِّ وغيره، فحَمَلَ عليهم، فأصابته آجُرَّةٌ في مَفرِقِه حتى فَلَقَت رأسَه، فوقف قائمًا وهو يقول: ولسنا على الأعقابِ تَدْمي كُلُومُنا … ولكِنْ على أقدامِنا تَقطُرُ الدِّمَا قال: ثم وقع فأكَبَّ عليه مَولَيانِ له وهما يقولان: العبدُ يَحْمي ربَّهُ ويَحتمي قال: ثم سِيرَ إليه فحُزَّ رأسُه، ﵁.
حافظ طلحہ بابر

ہم بقیہ حدیث کی طرف لوٹتے ہیں: سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے مسجد میں ایک خیمہ نصب کیا ہوا تھا جس میں عورتیں زخمیوں کو پانی پلاتی تھیں، ان کی مرہم پٹی کرتی تھیں، بھوکوں کو کھانا کھلاتی تھیں اور زخمی وہیں پناہ لیتے تھے۔ حصین بن نمیر نے کہا: ”اس خیمے سے مسلسل ایک شیر نکل کر ہم پر حملہ آور ہوتا ہے جیسے وہ اپنی کچھار سے نکل رہا ہو، کون ہے جو مجھے اس سے بچائے؟“ تو اہلِ شام میں سے ایک شخص نے کہا: ”میں ہوں۔“ جب رات چھا گئی تو اس نے اپنے نیزے کی نوک پر شمع رکھی، پھر اپنے گھوڑے کو ایڑی لگائی اور خیمے کو نیزہ مارا جس سے آگ بھڑک اٹھی۔ ان دنوں کعبہ پر کپڑے کے غلاف چڑھے ہوئے تھے اور اس کے اوپر یمنی چادریں تھیں، ہوا نے شعلوں کو کعبہ کی طرف اڑا دیا یہاں تک کہ وہ بھی جل گیا، اور اسی دن وہ مینڈھے کے سینگ بھی جل گئے جس کا فدیہ سیدنا اسحاق علیہ السلام کے بدلے دیا گیا تھا۔ راوی کہتے ہیں: پھر حصین بن نمیر کو یزید بن معاویہ کی موت کی خبر پہنچی تو وہ بھاگ نکلا۔ جب یزید بن معاویہ کا انتقال ہوا تو مروان بن حکم نے اپنے لیے خلافت کی دعوت دی جس پر حمص، اردن اور فلسطین والوں نے اسے لبیک کہا۔ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے اس کے مقابلے میں ضحاک بن قیس فہری کو ایک لاکھ کا لشکر دے کر بھیجا، مقامِ مرجِ راہط پر ان کا آمنا سامنا ہوا، مروان اس دن بنو امیہ، اپنے آزاد کردہ غلاموں اور اہلِ شام کے پیروکاروں سمیت پانچ ہزار کی جمعیت میں تھا۔ مروان نے اپنے ایک غلام کُرہ سے کہا: ”جس طرف چاہو حملہ کر دو۔“ اس نے کہا: ”ہم ان پر کیسے حملہ کریں جبکہ ان کی تعداد بہت زیادہ ہے؟“ مروان نے کہا: ”یہ لوگ یا تو مجبور ہیں یا اجرت پر رکھے ہوئے ہیں، ان پر حملہ کرو تمہارا بھلا ہو، تمہارا ایک بھرپور وار ہی کافی ہوگا اور وہ خود ہی بکھر جائیں گے کیونکہ یہ دینار و درہم کے بندے ہیں۔“ پس اس نے حملہ کیا اور انہیں شکست دے دی، ضحاک بن قیس قتل ہوئے اور لشکر تتر بتر ہو گیا۔ اس بارے میں زفر بن حارث کہتا ہے: ”میری عمر کی قسم! مرجِ راہط کے واقعے نے مروان کے لیے مقتولین اور قیدی چھوڑے ہیں۔ میں اپنا اسلحہ چلائے جا رہا ہوں، تمہارا بھلا ہو، جنگ کے وقت میری شدت میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔ کبھی کبھی کوڑے کرکٹ والی مٹی پر بھی گھاس اگ آتی ہے لیکن دلوں کے کینے باقی رہتے ہیں۔“ اسی بارے میں وہ یہ بھی کہتا ہے: ”کیا یہ حق ہے کہ بحدل اور اس کا بیٹا تو زندہ رہیں لیکن ابن زبیر قتل کر دیے جائیں؟ تم نے جھوٹ بولا ہے، ربِ کعبہ کی قسم! تم انہیں تب تک قتل نہیں کر سکتے جب تک وہ روشن و تابناک دن نہ آ جائے، اور جب تک تمہارے درمیان مشرفی تلواروں کی چمک سورج کی روشنی کی طرح نہ پھیل جائے۔“ راوی کہتے ہیں: پھر مروان فوت ہو گیا تو عبد الملک بن مروان نے خلافت سنبھالی، اہلِ شام نے اسے قبول کیا۔ اس نے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے کہا: ”ابن زبیر کے لیے کون تیار ہے؟“ حجاج بن یوسف نے کہا: ”اے امیر المؤمنین! میں ہوں۔“ عبد الملک نے اسے خاموش کروا دیا، اس نے دوبارہ یہی کہا تو پھر خاموش کروا دیا، تیسری بار اس نے پھر کہا: ”اے امیر المؤمنین! میں ان کے لیے تیار ہوں کیونکہ میں نے خواب میں دیکھا ہے گویا میں نے ان کا جبہ اتار کر خود پہن لیا ہے۔“ چنانچہ عبد الملک نے اس کے لیے جھنڈا تیار کیا اور لشکر دے کر مکہ روانہ کیا، یہاں تک کہ وہ مکہ پہنچا اور ابن زبیر سے جنگ کی۔ ابن زبیر نے اہلِ مکہ سے کہا: ”ان دو پہاڑوں کی حفاظت کرو، جب تک دشمن ان پر غالب نہیں آئے گا تم عزت و خیر کے ساتھ رہو گے۔“ راوی کہتے ہیں: ابھی زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ حجاج اور اس کے ساتھی ابو قبیس پہاڑ پر قابض ہو گئے اور وہاں منجنیق نصب کر دی، وہ اس کے ذریعے مسجد میں موجود ابن زبیر اور ان کے ساتھیوں پر سنگ باری کرنے لگا۔ جس صبح سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما شہید ہوئے، وہ اپنی والدہ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کے پاس گئے، ان کی عمر اس وقت سو سال تھی مگر نہ کوئی دانت گرا تھا اور نہ ہی بینائی یا سماعت میں کوئی خرابی آئی تھی۔ انہوں نے اپنے بیٹے سے پوچھا: ”اے عبداللہ! تمہاری جنگ کا کیا ہوا؟“ انہوں نے کہا: ”دشمن فلاں فلاں جگہ تک پہنچ چکا ہے۔“ پھر ابن زبیر ہنسے اور کہا: ”موت میں تو راحت ہے۔“ انہوں نے فرمایا: ”اے میرے بیٹے! شاید تم میرے لیے موت کی تمنا کر رہے ہو؟ میں تو یہ نہیں چاہتی کہ میں مروں یہاں تک کہ تمہارا معاملہ کسی ایک انجام تک پہنچ جائے، یا تو تم حکمران بن جاؤ جس سے میری آنکھیں ٹھنڈی ہوں، یا تم شہید کر دیے جاؤ تو میں اللہ سے اجر کی امید رکھوں۔“ پھر انہوں نے اپنی والدہ کو الوداع کیا تو انہوں نے کہا: ”اے میرے بیٹے! خبردار، قتل کے خوف سے اپنے دین کی کسی بات پر سمجھوتہ نہ کرنا۔“ وہ وہاں سے نکل کر مسجد میں آگئے اور حجرِ اسود پر کواڑ لگا دیے تاکہ منجنیق کے پتھروں سے اسے بچا سکیں۔ ایک شخص ابن زبیر کے پاس آیا جبکہ وہ زمزم کے پاس بیٹھے تھے اور کہا: ”کیا ہم آپ کے لیے کعبہ کا دروازہ نہ کھول دیں تاکہ آپ اس میں چڑھ جائیں؟“ عبداللہ نے اس کی طرف دیکھا اور کہا: ”تم اپنے بھائی کی ہر چیز سے حفاظت کرتے ہو سوائے اس کی اپنی ذات کے، کیا کعبہ کی کوئی ایسی حرمت ہے جو اس جگہ کی نہیں ہے؟ اللہ کی قسم! اگر یہ تمہیں کعبہ کے پردوں سے لٹکا ہوا بھی پائیں گے تو قتل کر دیں گے۔“ ان سے کہا گیا: ”کیا آپ صلح کی بات نہیں کرتے؟“ انہوں نے کہا: ”کیا یہ صلح کا وقت ہے؟ اللہ کی قسم! اگر یہ تمہیں کعبہ کے اندر بھی پا لیں گے تو سب کو ذبح کر دیں گے۔“ پھر انہوں نے یہ اشعار پڑھے: ”میں بدنامی کے خوف سے زندگی خریدنے والا نہیں ہوں، اور نہ ہی موت کے ڈر سے سیڑھی چڑھ کر کہیں چھپنے والا ہوں۔ میں اس تیر کا مقابلہ کر رہا ہوں جو ہٹنے والا نہیں، وہ موت سے ملنے والا ہے جہاں بھی اس کا رخ ہو جائے۔“ پھر وہ آلِ زبیر کی طرف متوجہ ہوئے اور انہیں وعظ کیا: ”تم میں سے ہر کوئی اپنی تلوار کی ایسے ہی حفاظت کرے جیسے اپنے چہرے کی کرتا ہے، اپنی تلوار نیچی نہ کرے کہ عورتوں کی طرح اپنے ہاتھ سے اپنا بچاؤ کرنے لگے۔ اللہ کی قسم! میں نے جب بھی کسی لشکر کا سامنا کیا تو ہراول دستے میں رہ کر کیا، اور مجھے کبھی کسی زخم کی اتنی تکلیف نہیں ہوئی جتنی دوا کی تکلیف ہوتی ہے۔“ راوی کہتے ہیں: وہ اسی حال میں تھے کہ بنو جمح کے دروازے سے کچھ لوگ داخل ہوئے جن میں ایک سیاہ فام شخص بھی تھا، انہوں نے پوچھا: ”یہ کون ہیں؟“ بتایا گیا: ”اہلِ حمص ہیں۔“ انہوں نے اپنے ستر ساتھیوں کے ہمراہ ان پر حملہ کیا، سب سے پہلے ان کا سامنا اسی سیاہ فام سے ہوا، انہوں نے اپنی تلوار سے ایسی ضرب لگائی کہ اس کی ٹانگ کاٹ دی، اس سیاہ فام نے کہا: ”ہائے افسوس! ہائے ابن زانیہ!“، ابن زبیر نے اس سے کہا: ”دفع ہو جا اے حام کی اولاد! کیا اسماء زانیہ ہے؟“ پھر انہوں نے انہیں مسجد سے باہر نکال دیا اور واپس مڑے تو دیکھا کہ کچھ لوگ بنو سہم کے دروازے سے داخل ہوئے ہیں، پوچھا: ”یہ کون ہیں؟“ بتایا گیا: ”اہلِ اردن ہیں۔“ انہوں نے یہ کہتے ہوئے ان پر حملہ کیا: ”مجھے ایسے سیلابی حملے کی عادت نہیں جس کی گرد رات تک نہ چھٹے“، راوی کہتے ہیں: انہوں نے انہیں بھی مسجد سے نکال دیا، پھر واپس آئے تو دیکھا کہ بنو مخزوم کے دروازے سے کچھ لوگ داخل ہو رہے ہیں، ان پر یہ کہتے ہوئے حملہ کیا: ”اگر میرا مدِ مقابل ایک ہوتا تو میں اسے کافی ہو جاتا۔“ مسجد کی چھت پر ان کے کچھ مددگار تھے جو دشمن پر اینٹیں وغیرہ پھینک رہے تھے، انہوں نے دشمن پر حملہ کیا تو ایک اینٹ ان کے سر کے عین بیچ میں لگی جس سے سر پھٹ گیا، وہ کھڑے رہ گئے اور یہ شعر پڑھا: ”ہماری ایڑیاں خون سے نہیں رنگتیں، بلکہ خون ہمارے قدموں پر ٹپکتا ہے۔“ راوی کہتے ہیں: پھر وہ گر گئے تو ان کے دو غلام ان پر جھک گئے اور کہہ رہے تھے: ”غلام اپنے آقا کی حفاظت کرتا ہے اور خود بھی بچاؤ کرتا ہے۔“ پھر ان کی طرف بڑھ کر ان کا سر مبارک تن سے جدا کر دیا گیا، رضی اللہ عنہ۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6474M
تخریج حدیث «إسناده محتمل للتحسين من أجل عبد الملك بن عبد الرحمن الذماري ومن دونه من الصنعايين، لكن في بعض ألفاظه نكارة كحزِّ رأس ابن الزبير في آخره.» [ترقيم الرساله 6474M] [ترقيم الشركة 6400/1]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(4) يعني حديث القاسم بن معن السابق، عن هشام بن عروة عن أبيه.
نوٹ / توضیح: یہاں مراد "القاسم بن معن" کی وہ سابقہ حدیث ہے جو ہشام بن عروہ عن عروہ بن زبیر کے واسطے سے مروی ہے۔
(1) زيادة من مصادر التخريج.
نوٹ / توضیح: یہ اضافہ تخریج کے دیگر مصادر سے لیا گیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6474 سے ماخوذ ہے۔