المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
دَخَلَ طَيْرٌ فِي نَعْشِ ابْنِ عَبَّاسٍ باب: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے جنازے میں ایک پرندے کا داخل ہونا
وأخبرني محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثنا الفضل ابن إسحاق الدُّورِي، حدثنا مروان بن شُجَاع، عن سالم بن عَجْلان، عن سعيد بن جُبير قال: مات ابنُ عبّاس بالطائف، فشهدتُ جنازتَه، فجاء طيرٌ لم يُرَ على خِلقَتِه ودخل في نَعشِه، فنَظَرْنا وتأمَّلناه هل يخرج فلم يُرَ أنه خرج من نَعشِه، فلما دُفِنَ تُلِيَت هذه الآيةُ على شَفيرِ القبر ولا يُدرَى من تلاها: ﴿يَاأَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ (27) ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً (28) فَادْخُلِي فِي عِبَادِي (29) وَادْخُلِي جَنَّتِي﴾ [الفجر: 27 - 30] (1). قال: وذكر إسماعيلُ بنُ علي وعيسى بنُ علي أنه طيرٌ أبيضُ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6312 - سكت عنه الذهبي في التلخيصسعید بن جبیر بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی وفات طائف میں ہوئی، میں ان کے جنازے میں حاضر تھا کہ ایک ایسا پرندہ آیا جس جیسی شکل و صورت کبھی نہیں دیکھا گئی تھی، وہ ان کے جنازے میں داخل ہو گیا، ہم نے غور سے دیکھا کہ شاید وہ باہر نکلے لیکن وہ دوبارہ نظر نہیں آیا، جب انہیں دفن کر دیا گیا تو قبر کے کنارے یہ آیت تلاوت کی گئی اور یہ معلوم نہ ہو سکا کہ اسے پڑھنے والا کون تھا: ﴿يَاأَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ (27) ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً (28) فَادْخُلِي فِي عِبَادِي (29) وَادْخُلِي جَنَّتِي﴾ [سورة الفجر: 27 - 30]۔ اسماعیل بن علی اور عیسیٰ بن علی نے بھی تصدیق کی ہے کہ وہ ایک سفید پرندہ تھا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: مروان بن شجاع کی وجہ سے سند حسن ہے۔
وأخرجه أبو نعيم في "معرفة الصحابة" (4269) عن أحمد بن محمد بن الفضل، عن أبي العبّاس السراج محمد بن إسحاق، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابونعیم نے "معرفة الصحابہ" (4269) میں احمد بن محمد بن الفضل کے واسطے سے ابو العباس السراج (محمد بن اسحاق) سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد في "فضائل الصحابة" (1879)، والآجري في "الشريعة" (1757 - 1758)، والطبراني (10581) من طريق مروان بن شجاع به.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے "فضائل" (1879)، آجری نے "الشریعہ" (1757) اور طبرانی (10581) نے مروان بن شجاع کے طریق سے روایت کیا ہے۔