المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ مَجْلِسِ ابْنِ عَبَّاسٍ باب: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی مجلس کا ذکر
حدیث نمبر: 6425
أخبرني أبو بكر بن أبي دارِمٍ الحافظ بالكوفة، حدثنا الحسين بن جعفر القُرَشي،، حدثنا علي بن حَكِيم، حدثنا مالك بن سُعَير بن الخِمْس، حدثنا الأعمش، عن أبي وائل قال: حَجَجْتُ أنا وصاحبٌ لي وابنُ عبّاس على الحجِّ، فجعل يقرأُ سورة النُّور ويفسِّرها، فقال صاحبي: يا سبحانَ الله، ماذا يخرجُ من رأس هذا الرجل؟! لو سَمِعَت هذا التُّركُ لأسلَمَت (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6292 - صحيححافظ طلحہ بابر
ابو وائل بیان کرتے ہیں کہ میں، میرا ایک ساتھی اور ابن عباس رضی اللہ عنہما حج کے سفر پر تھے، ابن عباس رضی اللہ عنہما سورہ نور کی تلاوت کرتے اور اس کی تفسیر بیان کرتے جاتے تھے، میرے ساتھی نے (حیرانی سے) کہا: سبحان اللہ! اس شخص کے دماغ سے کیسا (علم کا) چشمہ ابل رہا ہے! اگر ترک لوگ اسے سن لیتے تو ضرور اسلام لے آتے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) خبر صحيح، رجاله لا بأس بهم غير شيخ المصنف ابن أبي دارم، فضعيف الحسين بن جعفر: هو ابن حبيب القرشي القتات، قال الدارقطني في "سؤالات الحاكم" (86): صدوق. وذكره الذهبي في "تاريخ الإسلام" 6/ 938. وعلي بن حكيم: هو الأودي.
درجۂ حدیث: یہ خبر صحیح ہے، اس کے تمام رجال "لا بأس بہ" (درست) ہیں سوائے مصنف کے شیخ "ابن ابی دارم" کے جو کہ ضعیف ہیں۔
فنی نکتہ / علّت: حسین بن جعفر سے مراد ابن حبیب القرشی القتات ہیں جنہیں دارقطنی نے "صدوق" کہا ہے اور ذہبی نے "تاریخ الاسلام" (6/ 938) میں ذکر کیا ہے، جبکہ علی بن حکیم سے مراد "الاودی" ہیں۔
وانظر ما سلف قريبًا برقم (6423).
اہم نکتہ: اس حوالے سے گزشتہ روایت رقم (6423) ملاحظہ کریں۔
درجۂ حدیث: یہ خبر صحیح ہے، اس کے تمام رجال "لا بأس بہ" (درست) ہیں سوائے مصنف کے شیخ "ابن ابی دارم" کے جو کہ ضعیف ہیں۔
فنی نکتہ / علّت: حسین بن جعفر سے مراد ابن حبیب القرشی القتات ہیں جنہیں دارقطنی نے "صدوق" کہا ہے اور ذہبی نے "تاریخ الاسلام" (6/ 938) میں ذکر کیا ہے، جبکہ علی بن حکیم سے مراد "الاودی" ہیں۔
وانظر ما سلف قريبًا برقم (6423).
اہم نکتہ: اس حوالے سے گزشتہ روایت رقم (6423) ملاحظہ کریں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6425 سے ماخوذ ہے۔