حدیث نمبر: 6349
فحدَّثَني (1) عبد الرحمن بن عثمان بن زياد الأشجعي، عن أبيه قال: كان معقلُ بنُ سِنان الأشجعي قد صَحِبَ النبيَّ ﷺ وحمل لواءَ قومِه يوم الفتح، وكان شابًا طريًّا، وبقي بعدَ ذلك حتى بَعثَه الوليدُ بن عُتْبة بن أبي سفيان، وكان على المدينة (2)، فاجتمع معقلُ بن سنانٍ ومسلمُ بن عُقْبة الذي يُعرَف بمُسرِفٍ، فقال معقلٌ لمسرفٍ، وقد كان آنَسَه وحادَثَه إلى أن ذَكَر معقلٌ يزيدَ بن معاوية، فقال معقل: إني خرجتُ كَرْهًا لبيعةِ هذا الرجل، وقد كان من القضاءِ والقَدَر خروجي إليه، رجلٌ يشرب الخمرَ ويزني بالحُرَم، ثم نال منه وذكر خِصالًا كانت فيه، ثم قال لمسرفٍ: أحببتُ أن أضَعَ ذلك عندك، فقال مسرفٌ: أما أن أذكُرَ ذلك لأمير المؤمنين يومي هذا، فلا والله لا أفعَلُ، ولكنْ اللهِ عليَّ عهدٌ وميثاقٌ لا تُمكِنُني يدايَ منك ولي عليك مَقدِرةٌ، إلَّا ضربتُ الذي فيه عيناك. فلما قَدِمَ مسرفٌ المدينةَ وأَوقَعَ بهم أيامَ الحَرَّةِ، وكان معقلُ بن سِنان يومئذٍ صاحبَ المهاجرين، فأُتِيَ به مسرفٌ مأسورًا، فقال له: يا معقلَ بنَ سنان، أعَطِشتَ؟ قال: نعم، أصلَحَ اللهُ الأمير، قال: خوضوا له شربةً بلَوْز، قال: فخاضُوها له، فقال: أشرِبتَ ورَوِيتَ؟ قال: نعم، قال: أمَا والله لا تَستهنِئُ بها، يا مُفرجُ (3)، يا نوفلَ بنَ مُساحِقٍ قمْ فاضرِبْ عنقَه، فقام إليه فقتله صَبْرًا، وكانت الحرَّةُ في ذي الحِجَّة سنةَ ثلاث وستين. فقال شاعر الأنصار: ألَا تِلكُمُ الأنصارُ تَنعَى سَرَاتَها … وأشجَعُ تَنعَى معقلَ بنَ سِنانِ (1) ذكرُ الأشعث بن قيس الكِنْدي ﵁-
حافظ طلحہ بابر

عبدالرحمن بن عثمان بن زیاد اشجعی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا معقل بن سنان اشجعی رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے صحابی تھے اور فتح مکہ کے دن اپنی قوم کا جھنڈا اٹھائے ہوئے تھے، وہ اس وقت ایک ترو تازہ نوجوان تھے، وہ اس کے بعد طویل عرصہ حیات رہے یہاں تک کہ ولید بن عتبہ بن ابوسفیان (جو مدینہ کے گورنر تھے) نے انہیں کسی کام سے بھیجا، وہاں معقل بن سنان اور مسلم بن عقبہ (جو مسرف کے نام سے مشہور ہے) کا سامنا ہوا، معقل نے مسرف کے ساتھ گفتگو کے دوران یزید بن معاویہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ”میں اس شخص کی بیعت کے لیے ناگواری کے ساتھ نکلا تھا، اور اس کے پاس جانا محض قضائے الٰہی اور تقدیر کا فیصلہ تھا، وہ شخص شرابی ہے، حرمات کی بے حرمتی کرتا ہے،“ پھر انہوں نے ان کی مذمت کی اور ان کی چند بری خصلتیں بیان کیں، پھر مسرف سے کہا: ”میرا جی چاہا کہ یہ بات میں تمہارے پاس امانت رکھ دوں،“ مسرف نے کہا: ”اللہ کی قسم! میں آج کے دن تو یہ بات امیر المومنین کو نہیں بتاؤں گا لیکن اللہ کے حضور میرا یہ عہد و میثاق ہے کہ اگر کبھی مجھے تم پر قدرت حاصل ہو گئی، تو میں تمہارا سر قلم کر دوں گا۔“ پھر جب مسرف مدینہ آیا اور ایامِ حرہ میں وہاں قتل و غارت کی، تو معقل بن سنان اس وقت مہاجرین کے سالار تھے، انہیں قیدی بنا کر مسرف کے پاس لایا گیا، اس نے پوچھا: ”اے معقل بن سنان! کیا تمہیں پیاس لگی ہے؟“ انہوں نے کہا: ”جی ہاں، اللہ، امیر کی اصلاح فرمائے،“ اس نے خادموں سے کہا: ”ان کے لیے بادام کا شربت تیار کرو،“ جب انہوں نے شربت پلا دیا تو اس نے پوچھا: ”کیا تم نے شربت پی لیا اور سیراب ہو گئے؟“ انہوں نے کہا: ”جی ہاں،“ تو اس نے کہا: ”اللہ کی قسم! تم اس سے لطف اندوز نہیں ہو سکو گے، اے مفر ج! اے نوفل بن مساحق! اٹھو اور اس کی گردن اڑا دو،“ چنانچہ اس نے اٹھ کر انہیں قید کی حالت میں قتل کر دیا، واقعہ حرہ ذوالحجہ سن 63 ہجری میں پیش آیا تھا۔ تب انصار کے ایک شاعر نے یہ اشعار کہے: ”خبردار! وہ انصار اپنے سرداروں کا ماتم کر رہے ہیں، اور قبیلہ اشجع معقل بن سنان کا سوگ منا رہا ہے۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6349
درجۂ حدیث محدثین: إسناده مظلم
تخریج حدیث «إسناده مظلم» [ترقيم الرساله 6349] [ترقيم الشركة 6279/1]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) القائل: فحدثني، هو محمد بن عمر الواقدي.
ناموں کی تحقیق: "فحدثنی" (پس مجھے حدیث بیان کی) کہنے والے محمد بن عمر الواقدی ہیں۔
(2) زاد ابن سعد في "الطبقات" 5/ 171 من طريق محمد بن عمر الواقدي هذه: ببيعة يزيد بن معاوية فقدم الشامَ في وفد من أهل المدينة.
حوالہ / مصدر: ابن سعد نے 'الطبقات' (5/ 171) میں واقدی کے طریق سے یہ اضافہ کیا ہے کہ: "یزید بن معاویہ کی بیعت کے لیے وہ مدینہ کے وفد کے ساتھ شام گئے"۔
(3) في "طبقات ابن سعد" يا مفرج قم فاضرب عنقه، ثم قال: اجلس، ثم قال لنوفل بن مساحق: قم فاضرب عنقه.
تفصیلِ روایت: 'طبقات ابن سعد' میں ہے: "اے مفرج! اٹھو اور اس کی گردن مار دو"، پھر کہا: "بیٹھ جاؤ"، پھر نوفل بن مساحق سے کہا: "اٹھو اور اس کی گردن مار دو"۔
(1) إسناده مظلم -عدا أنَّ فيه محمد بن عمر الواقدي، وفيه كلام كثير وجمهور المحدثين على تركه - فإنَّ عبد الرحمن بن عثمان وأباه لا يعرفان ولم نقف لهما على ذكر في كتب الرجال.
درجۂ حدیث: اس کی سند 'مظلم' (انتہائی غیر واضح) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس میں واقدی ہیں جنہیں جمہور نے ترک کر رکھا ہے، نیز عبد الرحمن بن عثمان اور ان کے والد 'مجہول' ہیں اور کتبِ رجال میں ان کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔
والخبر رواه عن الواقدي أيضًا ابنُ سعد في "الطبقات" 5/ 171 - 172، ومن طريقه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 59/ 363 - 364.
حوالہ / مصدر: اس خبر کو واقدی سے ابن سعد نے 'الطبقات' اور ان کے واسطے سے ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (59/ 363) میں روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6349 سے ماخوذ ہے۔