حدیث نمبر: 6330
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا يوسف بن يعقوب القاضي، حدثنا محمد بن أبي بكر المُقدَّمي، حدثنا حميد بن الأسود، حدثنا الضحّاك بن عثمان، عن سعيد المَقبُري، عن صفوان بن المعطَّل السُّلَمي، أنه سأَل رسول الله ﷺ، فقال: يا نبيَّ الله، إني سائلُكَ عن أمرٍ أنت به عالمٌ وأنا به جاهل، قال: "ما هوَ؟ " قال: هل من ساعاتِ الليل والنهار من ساعةٍ تُكرَه فيها الصلاة؟ قال: "إذا صلَّيتَ الصبحَ فَدَعِ الصلاةَ حتى تَطلُعَ الشمسُ، فإنها تَطلُع لقَرْنَي شيطانٍ، ثم صلِّ، فالصلاةُ متقبَّلةٌ، حتى تستويَ الشمس على رأسك كالرُّمْح، فإذا كانت على رأسِك كالرُّمح فدَعِ الصلاةَ، فإنها الساعةُ التي تُسجَرُ فيها جهنَّمُ، وتُفتَحُ فيها أبوابُها حتى تَزِيعَ (1) الشمس، فإذا زاغت فالصلاةُ محضورةٌ متقبَّلةٌ حتى تصلِّيَ العصر، ثم دَعِ الصلاةَ حتى تَعْرُبَ الشمس" (2). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6204 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا صفوان بن معطل سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا: ”اے اللہ کے نبی! میں آپ سے ایک ایسے معاملے کے بارے میں پوچھتا ہوں جس کا علم آپ کو ہے اور میں اس سے ناواقف ہوں،“ آپ ﷺ نے پوچھا: ”وہ کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ”کیا دن اور رات کے اوقات میں کوئی ایسی گھڑی ہے جس میں نماز پڑھنا ناپسندیدہ ہو؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم صبح کی نماز پڑھ لو تو سورج طلوع ہونے تک نماز سے رکے رہو، کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے، پھر (طلوع کے بعد) نماز پڑھو کیونکہ وہ نماز مقبول ہے یہاں تک کہ سورج تمہارے سر پر نیزے کی طرح سیدھا ہو جائے، پس جب وہ نیزے کی طرح سر پر ہو تو نماز چھوڑ دو، کیونکہ یہ وہ وقت ہے جب جہنم دہکائی جاتی ہے اور اس کے دروازے کھولے جاتے ہیں یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے، پھر جب سورج ڈھل جائے تو نماز فرشتوں کی حاضری کا وقت اور مقبول ہے یہاں تک کہ تم عصر کی نماز پڑھ لو، پھر سورج غروب ہونے تک نماز سے رکے رہو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6330
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد لا بأس برجاله إلّا أنه منقطع، سعيد بن أبي سعيد المقبري لم يدرك صفوان بن المعطّل، بينهما فيه أبو هريرة كما سيأتي.» [ترقيم الرساله 6330] [ترقيم الشركة 6263] [ترقيم العلميه 6204]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) هكذا في (ب)، وهو الصواب، وفي (ز) و (م) و (ص) ترتفع، لكن كتب في حاشية (ز): صوابه تزيغ. وزاغت: أي: مالت.
فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ب) میں 'تزیغ' ہے اور یہی درست ہے، دیگر نسخوں میں 'ترتفع' لکھا ہے مگر (ز) کے حاشیے میں تصحیح موجود ہے۔ 'زاغت' کا مطلب ہے: (سورج کا) ڈھل جانا۔
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد لا بأس برجاله إلّا أنه منقطع، سعيد بن أبي سعيد المقبري لم يدرك صفوان بن المعطّل، بينهما فيه أبو هريرة كما سيأتي.
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے اور اس کے راوی معتبر ہیں، مگر اس سند میں 'انقطاع' ہے؛ کیونکہ سعید المقبری نے حضرت صفوان بن المعطل کا زمانہ نہیں پایا، ان کے درمیان حضرت ابو ہریرہ کا واسطہ ہے جیسا کہ آگے آئے گا۔
وأخرجه عبد الله بن أحمد في زياداته على "المسند" 37/ (22661) عن محمد بن أبي بكر المقدمي، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے عبد اللہ بن احمد نے "مسند احمد" کے زوائد (37/ 22661) میں محمد بن ابی بکر المقدمی کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (1252)، وابن حبان (1542) من طريق محمد بن إسماعيل بن أبي فُديك، عن الضحاك بن عثمان، عن سعيد المقبري، عن أبي هريرة قال: سأل صفوان بن المعطل رسولَ الله … وذكره. وإسناده قوي.
درجۂ حدیث: اس کی سند قوی ہے۔
حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (1252) اور ابن حبان (1542) نے الضحاک بن عثمان عن سعید المقبری عن ابی ہریرہ کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن حبان (1550) من طريق عياض بن عبد الله القرشي، عن سعيد المقبري، عن أبي هريرة: أنَّ رجلًا أتى رسول الله ﷺ … فذكره ولم يسم السائل. وعياض فيه لِين.
حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (1550) نے عیاض بن عبد اللہ القرشی کے طریق سے روایت کیا ہے، مگر اس میں سائل کا نام مذکور نہیں ہے۔ عیاض میں تھوڑی کمزوری (لین) ہے۔
وله شاهد من حديث عمرو بن عَبَسة السلمي عند مسلم (832). وقد سلف عند المصنف برقم (593).
متابعات و شواہد: اس کا شاہد حضرت عمرو بن عبسہ السلمی کی روایت ہے جو صحیح مسلم (832) میں ہے اور مصنف کے ہاں پہلے رقم (593) پر گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6330 سے ماخوذ ہے۔