المستدرك على الصحيحين
كتاب الطهارة— طہارت کا بیان
لَا تَقْضِي النُّفَسَاءُ وَالْحَائِضُ صَلَاةَ أَيَّامِ الْحَيْضِ وَالنِّفَاسِ باب: نفاس والی اور حائضہ عورت ایامِ حیض و نفاس کی نمازوں کی قضا نہیں کرے گی۔
أخبرنا أبو الحسين محمد بن أحمد بن تميم القَنطَري ببغداد، حَدَّثَنَا أبو قِلابة الرَّقَاشي، حَدَّثَنَا أبو عاصم النَّبيل، حَدَّثَنَا عثمان بن سعد القرشي، حَدَّثَنَا ابن أبي مُلَيكة قال: جاءت خالتي فاطمةُ بنت أبي حُبَيش إلى عائشة فقالت: إني أخاف أن أقعَ في النار، إني أدَعُ الصلاةَ السنةَ والسنتين، لا أُصلي، فقالت: انتظري حتَّى يجيءَ النَّبِيُّ ﷺ، فجاء فقالت عائشة: هذه فاطمةُ تقول كذا وكذا، فقال لها النَّبِيّ ﷺ: "قولي لها فلتَدعِ الصلاةَ في كل شهر أيامَ قُرونها ثم لتَعْتَسِلْ في كل يوم غُسلًا واحدًا، ثم الطُّهورُ عند كل صلاة، ولتنظِّفْ ولتَحْتشِ، فإنما هو داءٌ عَرَضَ، أو رَكْضَةٌ من الشيطان، أو عِرقُ انقَطَع" (1).
هذا حديث صحيح، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ (2)، وعثمان بن سعد الكاتب بصري ثقةٌ عزيزٌ الحديث يُجمَع حديثه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 623 - كلاابن ابی ملیکہ بیان کرتے ہیں کہ میری خالہ فاطمہ بنت ابی حبیش سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں اور عرض کی: ”میں آگ (جہنم) میں گرنے سے ڈرتی ہوں کیونکہ میں ایک ایک دو دو سال نماز چھوڑ دیتی ہوں،“ انہوں نے کہا: ”ٹھہر جاؤ یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ تشریف لے آئیں،“ جب آپ ﷺ آئے تو سیدہ عائشہ نے صورتحال بتائی، تو نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اس سے کہو کہ وہ ہر مہینے اپنے حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دیا کرے، پھر ہر روز ایک غسل کر لیا کرے، پھر ہر نماز کے وقت وضو کرے، صفائی کرے اور لنگوٹ باندھ لے، کیونکہ یہ ایک بیماری ہے یا شیطان کی طرف سے مار ہے یا کسی رگ کے کٹ جانے کی وجہ سے ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا، اور عثمان بن سعد بصری ثقہ ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: عثمان بن سعد راجح قول کے مطابق ضعیف ہیں، یحییٰ بن سعید القطان ان کے حافظے پر کلام کرتے تھے۔
اہم نکتہ: ابن ابی ملیکہ نے یہ روایت اپنی خالہ فاطمہ بنت ابی حبیش سے سنی تھی جیسا کہ مسند احمد (45/ 27631) میں اسرائیل کی روایت سے واضح ہے۔
وسيتكرر مختصرًا برقم (7083)، وفيه هناك: عثمان بن الأسود، بدلٌ: بن سعد، وهو غلط.
نوٹ / توضیح: یہ دوبارہ نمبر (7083) پر مختصراً آئے گی، مگر وہاں نام "عثمان بن الاسود" لکھا ہے جو کہ غلط ہے، درست "عثمان بن سعد" ہے۔
(2) انظر حديث عروة عن عائشة في قصة فاطمة بنت أبي حبيش عند البخاريّ (228)، ومسلم (333)، ولتمام تخريجه انظر "مسند أحمد" 42/ (25622).
حوالہ / مصدر: فاطمہ بنت ابی حبیش کے قصے میں حضرت عروہ عن عائشہ کی حدیث کے لیے صحیح بخاری (228) اور صحیح مسلم (333) ملاحظہ فرمائیں۔
نوٹ / توضیح: اس روایت کی مکمل تخریج "مسند احمد" 42/ (25622) میں دیکھی جا سکتی ہے۔