المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
أَقْطَعَ النَّبِيُّ لِبِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ قَطِيعَةً باب: نبی کریم ﷺ نے بلال بن حارث کو ایک زمین عطا فرمائی
حدیث نمبر: 6324
أخبرنا عبد الله بن جعفر بن دَرَسَتويهِ الفارسي، حدثنا يعقوب بن سفيان الفارسي، حدثنا عبد العزيز بن عبد الله الأُوَيْسي، حدثنا حُمَيد بن صالح، عن الحارث وبلالٍ ابني يحيى بنِ بلال بن الحارث، عن أبيهما، عن جدِّهما بلال بن الحارث المُزَني: أنَّ رسول الله ﷺ أقطَعَه القطيعة وكتب له: "هذا ما أعطى محمدٌ رسولُ الله ﷺ بلالَ ابنَ الحارث، أعطاه مَعادِنَ القَبَليّةِ؛ غَوْريَّها وجَلْسِيَّها، والغَشِيّةَ (1)، وذات النُّصْب، وحيث صَلَحَ الزَّرعُ من قُدْسٍ، إن كان ضاربًا"؛ وكَتَبَ معاويةُ (2)
حافظ طلحہ بابر
حارث اور بلال اپنے والد یحییٰ اور وہ اپنے دادا سیدنا بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں ایک زمین بطور جاگیر عطا فرمائی اور ان کے لیے ایک تحریر لکھی: ”یہ وہ پروانہ ہے جو اللہ کے رسول محمد ﷺ نے بلال بن حارث کو عطا کیا، آپ ﷺ نے انہیں قبیلیہ کے مقام کی کانیں عطا کیں؛ ان کا نشیبی اور بلندی والا حصہ بھی، اور غشیہ، ذات النصب اور قدس کے وہ تمام مقامات جہاں کاشتکاری کی صلاحیت ہو، بشرطیکہ وہ وہاں کام کریں؛“ اور یہ تحریر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے لکھی تھی۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرَّف في نسخنا الخطية إلى: الجشيمة، وجاء عند الطبراني: وغشيّة، على الصواب. قال ياقوت الحموي في "معجم البلدان" 4/ 205: بالفتح ثم الكسر والياء مشددة: موضع من ناحية معدن القبلية، روي عسيّة بمهملتين.
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہاں تحریف ہو کر 'الجشیمہ' ہو گیا ہے، جبکہ امام طبرانی کے ہاں درست لفظ 'غشیّہ' مذکور ہے۔ یاقوت الحموی "معجم البلدان" (4/ 205) میں لکھتے ہیں کہ یہ 'معدن القبلیہ' کی جانب ایک جگہ کا نام ہے، اسے 'عسیّہ' (بغیر نقطوں کے) بھی روایت کیا گیا ہے۔
(2) إسناده مظلم، حميد بن صالح والحارث وبلال وأبوهما لم نقف لهم على ذكر في كتب الرجال.
درجۂ حدیث: اس کی سند 'مظلم' (انتہائی غیر واضح) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: حمید بن صالح، حارث، بلال اور ان کے والد کا ذکر کتبِ رجال میں نہیں ملتا (یعنی یہ سب مجہول ہیں)۔
وأخرجه الطبراني (1141) من طريق محمد بن الحسن، عن حميد بن صالح، بهذا الإسناد. إلَّا أنه قال: عمارة وبلال ابني يحيى بن بلال. قال الهيثمي في "مجمع الزوائد" 6/ 8: وفيه محمد بن الحسن بن زَبَالة، وهو متروك.
حوالہ / مصدر: اسے امام طبرانی (1141) نے محمد بن الحسن عن حمید بن صالح کی سند سے روایت کیا ہے، مگر وہاں نام "عمارہ اور بلال پسران یحییٰ بن بلال" بتائے گئے ہیں۔
درجۂ حدیث: امام ہیثمی "مجمع الزوائد" (6/ 8) میں فرماتے ہیں کہ اس سند میں محمد بن الحسن بن زبالہ ہے جو کہ 'متروک' راوی ہے۔
لكن روي إقطاع النبي ﷺ بلالَ بن الحارث المزني معادن القبلية من غير هذا الوجه، وهو ثابت مشهور، انظر "سنن أبي داود" (3061 - 3063) والتعليق عليه في طبعتنا في دار الرسالة العالمية.
اہم نکتہ: اگرچہ یہ سند ضعیف ہے، مگر نبی ﷺ کا حضرت بلال بن الحارث المزنی کو 'معادن القبلیہ' کی زمین بطور جاگیر عطا کرنا دوسرے طرق سے ثابت اور مشہور ہے۔ (دیکھیں: سنن ابی داود 3061-3063)۔
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہاں تحریف ہو کر 'الجشیمہ' ہو گیا ہے، جبکہ امام طبرانی کے ہاں درست لفظ 'غشیّہ' مذکور ہے۔ یاقوت الحموی "معجم البلدان" (4/ 205) میں لکھتے ہیں کہ یہ 'معدن القبلیہ' کی جانب ایک جگہ کا نام ہے، اسے 'عسیّہ' (بغیر نقطوں کے) بھی روایت کیا گیا ہے۔
(2) إسناده مظلم، حميد بن صالح والحارث وبلال وأبوهما لم نقف لهم على ذكر في كتب الرجال.
درجۂ حدیث: اس کی سند 'مظلم' (انتہائی غیر واضح) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: حمید بن صالح، حارث، بلال اور ان کے والد کا ذکر کتبِ رجال میں نہیں ملتا (یعنی یہ سب مجہول ہیں)۔
وأخرجه الطبراني (1141) من طريق محمد بن الحسن، عن حميد بن صالح، بهذا الإسناد. إلَّا أنه قال: عمارة وبلال ابني يحيى بن بلال. قال الهيثمي في "مجمع الزوائد" 6/ 8: وفيه محمد بن الحسن بن زَبَالة، وهو متروك.
حوالہ / مصدر: اسے امام طبرانی (1141) نے محمد بن الحسن عن حمید بن صالح کی سند سے روایت کیا ہے، مگر وہاں نام "عمارہ اور بلال پسران یحییٰ بن بلال" بتائے گئے ہیں۔
درجۂ حدیث: امام ہیثمی "مجمع الزوائد" (6/ 8) میں فرماتے ہیں کہ اس سند میں محمد بن الحسن بن زبالہ ہے جو کہ 'متروک' راوی ہے۔
لكن روي إقطاع النبي ﷺ بلالَ بن الحارث المزني معادن القبلية من غير هذا الوجه، وهو ثابت مشهور، انظر "سنن أبي داود" (3061 - 3063) والتعليق عليه في طبعتنا في دار الرسالة العالمية.
اہم نکتہ: اگرچہ یہ سند ضعیف ہے، مگر نبی ﷺ کا حضرت بلال بن الحارث المزنی کو 'معادن القبلیہ' کی زمین بطور جاگیر عطا کرنا دوسرے طرق سے ثابت اور مشہور ہے۔ (دیکھیں: سنن ابی داود 3061-3063)۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6324 سے ماخوذ ہے۔