المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ الِاخْتِلَافِ فِي سَنَةِ وَفَاتِهِ باب: وفات کے سال میں اختلاف کا ذکر
حَدَّثَنَا أبو عبد الله الأصبهاني، حَدَّثَنَا الحسن بن الجَهْم، حَدَّثَنَا الحسين بن الفَرَج، حَدَّثَنَا محمد بن عمر قال: تُوفِّيَ أبو هريرة سنةَ تسع وخمسين في آخر إمارة معاوية، وكان له يومَ تُوفِّيَ ثمانٍ وسبعون سنةً، وصلى عليه الوليد بن عُتْبة وهو أميرُ المدينة، ومروانُ يومئذٍ معزولٌ عن عمل المدينة، فحدَّثَني ثابتُ بن قيس عن ثابت بن مِشحَل قال: كتب الوليدُ إلى معاوية يخبرُه بموت أبي هريرة، فكتب إليه: انظُرْ مَن تَرَكَ فادفَعْ إلى وَرَثَتِه عشرةَ آلافِ درهم، وأَحسِنْ جِوارَهم، وافعَلْ إليهم معروفًا، فإنه كان ممَّن نَصَرَ عثمانَ، وكان معه في الدَّار، ﵀ (1).
محمد بن عمر بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی وفات سن 59 ہجری میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے آخری دورِ امارت میں ہوئی، اور وفات کے وقت ان کی عمر 78 برس تھی، ولید بن عتبہ نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی جبکہ وہ اس وقت مدینہ کے امیر تھے اور مروان ان دنوں مدینہ کی گورنری سے معزول تھا، ثابت بن قیس نے ثابت بن مشعل سے روایت کی کہ ولید نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھ کر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی وفات کی خبر دی، تو انہوں نے جواب میں لکھا: ”دیکھو کہ انہوں نے پیچھے کون سے ورثاء چھوڑے ہیں، پس ان کے ورثاء کو دس ہزار درہم ادا کرو، ان کے پڑوس کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور ان کے ساتھ بھلائی کا معاملہ کرو، کیونکہ وہ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی مدد کی تھی اور وہ (محاصرے کے وقت) گھر میں ان کے ساتھ موجود تھے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
ناموں کی تحقیق: ثابت بن قیس (واقدی کے استاد) الغفاری المدنی ہیں جن میں کوئی حرج نہیں؛ جبکہ ثابت بن مشحل حضرت ابو ہریرہ کے آزاد کردہ غلام ہیں اور ابن حبان نے انہیں 'الثقات' میں ذکر کیا ہے۔
ورواه عن الواقدي ابن سعد في "الطبقات" 5/ 257، ومن طريقه ابن عساكر 67/ 391.
حوالہ / مصدر: اسے واقدی سے ابن سعد نے 'الطبقات' (5/ 257) میں اور ان کے واسطے سے ابن عساکر (67/ 391) نے روایت کیا ہے۔