حدیث نمبر: 6260
حَدَّثَنَا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا أحمد بن عبد الجبّار، حَدَّثَنَا يونس بن بُكَير، حَدَّثَنَا محمد بن إسحاق، حدثني بُرَيدة بن سفيان الأسلمي، عن أبيه، عن أبي اليَسَر كعب بن عمرو قال: أَتيتُ النَّبِيّ ﷺ وهو يبايعُ الناسَ، فقلت: يا رسول الله، ابسُطْ يدَك حتَّى أبايعَك، واشتَرِطْ عليَّ، فأنت أعلمُ بالشَّرط، قال: "أُبايعُك على أن تَعبُدَ الله، وتقيمَ الصلاة، وتُؤتيَ الزكاة، وتناصحَ المسلمَ، وتُفارِقَ المشرِك" (1). ذكرُ معتِّب بن الحمراء المخزومي ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6137 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

ابو الیسر کعب بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ ﷺ لوگوں سے بیعت لے رہے تھے، میں نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! اپنا ہاتھ بڑھائیں تاکہ میں آپ کی بیعت کروں، اور مجھ پر شرطیں رکھیں کیونکہ آپ ان شرائط کو بہتر جانتے ہیں،“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تم سے اس بات پر بیعت لیتا ہوں کہ تم صرف اللہ کی عبادت کرو گے، نماز قائم کرو گے، زکوٰۃ ادا کرو گے، مسلمانوں کے خیر خواہ رہو گے اور مشرک سے علیحدگی اختیار کرو گے۔“
سیدنا معتب بن حمراء مخزومی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6260
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح لكن من حديث جرير بن عبد الله البجلي
تخریج حدیث «حديث صحيح لكن من حديث جرير بن عبد الله البجلي، وهذا إسناد ضعيف لضعف بريدة بن سفيان، وأغلب الظن أنه هو الذي أخطأ فيه فجعله من حديث أبي اليسر، وهذا الطريق انفرد به المصنّف ولم نقف عليه عند غيره.» [ترقيم الرساله 6260] [ترقيم الشركة 6194] [ترقيم العلميه 6137]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح لكن من حديث جرير بن عبد الله البجلي، وهذا إسناد ضعيف لضعف بريدة بن سفيان، وأغلب الظن أنه هو الذي أخطأ فيه فجعله من حديث أبي اليسر، وهذا الطريق انفرد به المصنّف ولم نقف عليه عند غيره.
درجۂ حدیث: یہ حدیث اصلاً 'صحیح' ہے مگر یہ حضرت جریر بن عبد اللہ البجلی کی روایت سے ثابت ہے۔
فنی نکتہ / علّت: مصنف کی یہ سند بریدہ بن سفیان کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے؛ غالب گمان یہ ہے کہ اسی راوی نے غلطی سے اسے ابو الیسر کی حدیث قرار دے دیا۔
نوٹ / توضیح: اس طریق کے بیان میں مصنف اکیلے ہیں اور یہ کہیں اور نہیں ملا۔
وقد أخرج هذا الحديث بلفظه النسائي (7752)، والبيهقي 9/ 13، وابن عبد البر في "التمهيد" 16/ 349 - 350 من طريق جرير بن عبد الحميد، عن منصور بن المعتمر، عن أبي وائل شقيق بن سلمة، عن أبي نخيلة البجلي، عن جرير بن عبد الله. وهذا إسناد صحيح، إلّا أنه قد اختُلف في ذكر أبي نخيلة في الإسناد على ما هو مبيَّن في "مسند أحمد" (31/ 19153).
حوالہ / مصدر: اس حدیث کو انہی الفاظ کے ساتھ نسائی (7752)، بیہقی (9/ 13) اور ابن عبد البر نے "التمہید" (16/ 349) میں جریر بن عبد الحمید عن منصور بن المعتمر کی سند سے روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: یہ سند صحیح ہے، اگرچہ اس میں 'ابو نخیله' کے ذکر پر اختلاف ہے جیسا کہ 'مسند احمد' (31/ 19153) میں واضح کیا گیا ہے۔
وقد روي نحوه من غير وجه عن جرير بن عبد الله، وأصله في البخاري (57) و (58) ومسلم (56).
حوالہ / مصدر: حضرت جریر بن عبد اللہ سے یہ روایت دیگر طرق سے بھی مروی ہے اور اس کی اصل صحیح بخاری (57، 58) اور صحیح مسلم (56) میں موجود ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6260 سے ماخوذ ہے۔