المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
كَعْبُ بْنُ عَمْرٍو أَبُو الْيَسَرِ الْأَنْصَارِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: سیدنا کعب بن عمرو ابو الیسر انصاری رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 6259
حَدَّثَنَا أبو عبد الله الأصبهاني، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الله رُسْتَهْ، حَدَّثَنَا سليمان بن داود، حَدَّثَنَا محمد بن عمر قال: أبو اليَسَر اسمه كعبُ بن عَمرو بن عبّاد بن عَمرو بن سَوَاد (3). وشَهِدَ أبو اليَسَر العَقَبةَ في جميع الروايات، وشهد بدرًا وهو ابن عشرين سنة، وشهد أُحدًا والخندقَ والمشاهدَ كلَّها مع رسول الله ﷺ، وكان رجلًا قصيرًا دَحْداحًا ذا بطنٍ، وتُوفِّي بالمدينة سنة خمس وخمسين.
حافظ طلحہ بابر
محمد بن عمر سے روایت ہے کہ ابو الیسر رضی اللہ عنہ کا نام کعب بن عمرو بن عباد ہے، تمام روایات کے مطابق انہوں نے بیعتِ عقبہ میں شرکت کی، غزوہ بدر کے وقت ان کی عمر بیس سال تھی، وہ غزوہ احد، خندق اور رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تمام معرکوں میں شریک ہوئے، وہ پستہ قد، کسرتی بدن اور بڑے پیٹ والے شخص تھے، ان کی وفات 55 ہجری میں مدینہ منورہ میں ہوئی ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) تحرَّف في نسخنا الخطية إلى: سوار، بالراء، والتصويب من "مغازي الواقدي" 1/ 170.
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر 'سوار' (راء کے ساتھ) ہو گیا ہے، درست نام 'سواد' ہے جیسا کہ واقدی کی "المغازی" (1/ 170) میں مذکور ہے۔
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر 'سوار' (راء کے ساتھ) ہو گیا ہے، درست نام 'سواد' ہے جیسا کہ واقدی کی "المغازی" (1/ 170) میں مذکور ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6259 سے ماخوذ ہے۔