المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
كَعْبُ بْنُ عَمْرٍو أَبُو الْيَسَرِ الْأَنْصَارِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: سیدنا کعب بن عمرو ابو الیسر انصاری رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 6256
حَدَّثَنَا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حَدَّثَنَا أحمد بن سَلَمة بن عبد الله قال: سمعت إسحاقَ بن إبراهيم الحَنظَليَّ يقول: أبو اليَسَر الأنصاري اسمه كعبُ بن عمرو بن عَبَّاد بن عَمرو بن تَميم بن سَوَاد بن غَنْم بن كعب بن سَلِمة (1)، من أهل بدرٍ، وشَهِدَ العَقبة، وهو الذي أَسَرَ العبَّاس بن عبد المطَّلب.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو الیسر کعب بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر۔ اسحاق بن ابراہیم حنظلی سے روایت ہے کہ ابو الیسر انصاری کا نام کعب بن عمرو بن عباد بن عمرو بن تمیم انصاری ہے، وہ اہل بدر میں سے ہیں، انہوں نے بیعتِ عقبہ میں شرکت کی اور یہ وہی ہیں جنہوں نے سیدنا عباس بن عبدالمطلب کو قیدی بنایا تھا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) في نسخنا الخطية: تميم بن شداد بن عثمن بن كعب بن سليم، وهذا تحريف، فشداد تحرَّف عن سواد، وعثمن عن غنم، وسليم عن سلمة، وقد تقدَّم ذكر أبي اليسر ونسبه على الصواب عند المصنّف برقم (6194 - 6197).
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ نام "تمیم بن شداد بن عثمن بن کعب بن سلیم" لکھا ہے جو کہ تحریف ہے؛ درست نام "سواد" (شداد کے بجائے)، "غنم" (عثمن کے بجائے) اور "سلمہ" (سلیم کے بجائے) ہے۔
اہم نکتہ: ابو الیسر کا درست نام اور نسب مصنف کے ہاں پہلے رقم (6194-6197) پر گزر چکا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ نام "تمیم بن شداد بن عثمن بن کعب بن سلیم" لکھا ہے جو کہ تحریف ہے؛ درست نام "سواد" (شداد کے بجائے)، "غنم" (عثمن کے بجائے) اور "سلمہ" (سلیم کے بجائے) ہے۔
اہم نکتہ: ابو الیسر کا درست نام اور نسب مصنف کے ہاں پہلے رقم (6194-6197) پر گزر چکا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6256 سے ماخوذ ہے۔