حدیث نمبر: 6253
حَدَّثَنَا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا الربيع بن سليمان، حَدَّثَنَا أَسد بن موسى، حَدَّثَنَا العَطَّاف بن خالد المخزومي، عن عثمان بن عبد الله بن الأرقَم، عن جدِّه الأرقم؛ وكان بدريًّا، وكان رسول الله ﷺ أَوى في داره عند الصَّفا حتَّى تَكامَلوا أربعين رجلًا مسلمين، وكان آخرَهم إسلامًا عمرُ بن الخطّاب ﵃، فلما كانوا أربعين خرجوا إلى المشركين. قال الأرقمُ: فجئتُ رسول الله ﷺ لأودِّعَه، وأردتُ الخروجَ إلى بيت المقدِس، فقال لي رسول الله ﷺ: أين تريدُ؟ " قلت: بيتَ المقدِس، قال: "وما يُخرِجُك إليه، أفي تجارةٍ؟ " قلت: لا، ولكنْ أُصلَّي فيه، فقال رسول الله ﷺ: "صلاةٌ هاهنا خيرٌ من ألفِ صلاةٍ ثَمَّ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6130 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

عثمان بن عبداللہ بن ارقم اپنے دادا ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ بدری صحابی تھے اور رسول اللہ ﷺ نے کوہِ صفا پر ان کے گھر میں قیام فرمایا یہاں تک کہ چالیس مسلمان مرد مکمل ہو گئے، ان میں سب سے آخر میں اسلام لانے والے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے، جب وہ چالیس ہو گئے تو مشرکین کے سامنے نکلے۔ ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کو الوداع کہنے کے لیے حاضر ہوا، میرا ارادہ بیت المقدس جانے کا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے دریافت فرمایا: ”تم کہاں کا ارادہ رکھتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: بیت المقدس کا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں وہاں کیا چیز لے جا رہی ہے، کیا کوئی تجارت ہے؟“ میں نے عرض کیا: نہیں، بلکہ میں وہاں نماز پڑھنا چاہتا ہوں، تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یہاں (مکہ میں) ایک نماز وہاں کی ہزار نمازوں سے بہتر ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6253
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، لاضطراب العطاف بن خالد فيه وجهالة شيخه عثمان كما هو مبين في تعليقنا على "مسند أحمد" 39/ (24009/ 1) حيث رواه عصام بن خالد، عن العطاف. وانظر تمام الكلام عليه هناك.» [ترقيم الرساله 6253] [ترقيم الشركة 6187] [ترقيم العلميه 6130]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف لاضطراب العطاف بن خالد فيه وجهالة شيخه عثمان كما هو مبين في تعليقنا على "مسند أحمد" 39/ (24009/ 1) حيث رواه عصام بن خالد، عن العطاف. وانظر تمام الكلام عليه هناك.
درجۂ حدیث: یہ سند ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس کی وجہ عطاف بن خالد کا اس میں 'اضطراب' (سند یا متن میں بے ترتیبی) کرنا اور ان کے استاد عثمان کا 'مجہول' ہونا ہے، جیسا کہ ہم نے "مسند احمد" (39/ 24009/ 1) کے حاشیے میں تفصیل سے لکھا ہے۔
وانظر حديث أبي ذر الآتي عند المصنّف برقم (8764).
نوٹ / توضیح: اس سلسلے میں حضرت ابو ذر کی حدیث بھی دیکھیں جو آگے رقم (8764) پر آئے گی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6253 سے ماخوذ ہے۔