المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
اسْتِجَابَةُ دُعَاءِ سَعْدٍ فِي حَقِّ رَاكِبٍ سَبَّ عَلِيًّا باب: سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی دعا کا قبول ہونا اس شخص کے بارے میں جس نے سواری پر بیٹھ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو برا کہا
حدیث نمبر: 6240
حَدَّثَنَا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا إبراهيم بن مَرزُوق، حَدَّثَنَا سعيد بن عامر، حَدَّثَنَا شُعبة، عن أبي بَلْج، عن مصعب بن سعد، عن سعد: أنَّ رجلًا نالَ من عليّ، فدعا عليه سعدُ بنُ مالك، فجاءتْه ناقةٌ أو جملٌ فقتله، فأَعتَقَ سعدٌ نَسَمةً وحَلَفَ أن لا يدعوَ على أَحد (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6120 - سكت عنه الذهبي في التلخيصحافظ طلحہ بابر
مصعب بن سعد اپنے والد سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخی کی، تو سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ نے اس کے خلاف بددعا کی، پس اچانک ایک اونٹنی یا اونٹ آیا جس نے اسے (روند کر) قتل کر دیا، اس واقعے کے بعد سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے ایک جان (غلام) آزاد کی اور یہ حلف اٹھایا کہ وہ آئندہ کبھی کسی کے خلاف بددعا نہیں کریں گے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده حسن. أبو بلج: مشهور بكنيته، واسمه يحيى بن سليم أو ابن أبي سليم الكوفي. ولم نقف عليه عند غير المصنّف.
درجۂ حدیث: اس کی سند 'حسن' ہے۔
ناموں کی تحقیق: ابو بلج اپنی کنیت سے مشہور ہیں، ان کا نام یحییٰ بن سلیم یا ابن ابی سلیم الکوفی ہے۔
نوٹ / توضیح: ہمیں یہ روایت مصنف (امام حاکم) کے علاوہ کہیں اور نہیں ملی۔
درجۂ حدیث: اس کی سند 'حسن' ہے۔
ناموں کی تحقیق: ابو بلج اپنی کنیت سے مشہور ہیں، ان کا نام یحییٰ بن سلیم یا ابن ابی سلیم الکوفی ہے۔
نوٹ / توضیح: ہمیں یہ روایت مصنف (امام حاکم) کے علاوہ کہیں اور نہیں ملی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6240 سے ماخوذ ہے۔