حدیث نمبر: 6239
أخبرنا الحسين بن علي التَّميمي، حَدَّثَنَا محمد بن إسحاق الإمامُ، أخبرنا يونس بن عبد الأعلى، أخبرنا ابن وهب أخبرني بكر بن مُضَر، عن سعيد بن عبد الرحمن (1) قال: قال ابنٌ لسعد بن أبي وقَّاص: أنا ابن مستجابِ الدُّعا والسّادِّ … للثُّلْمةِ للمصطفى من العَرَبِ يَكلؤُها للنبيِّ محتسِبًا … خُصَّ بها دونَ كلِّ محتسِبِ واختلَفَ الناسُ بينَهْم فأَبى … قتالَ أهلِ التوحيدِ والكُتُبِ سلَّمَه الله لم يُصِبْ أَحدًا … منهمْ بسهمٍ إذًا ولم يُصَبِ
حافظ طلحہ بابر

سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے ایک صاحبزادے نے (اپنے والد کے مناقب میں) یہ اشعار کہے: ”میں اس شخصیت کا بیٹا ہوں جس کی دعائیں قبول ہوتی ہیں اور جس نے عرب کے برگزیدہ نبی ﷺ کے لیے (دفاعی) شگاف کو پُر کیا، وہ ثواب کی نیت سے اللہ کے نبی ﷺ کی حفاظت کرتے تھے اور یہ اعزاز کسی اور کے بجائے خاص طور پر انہیں ہی بخشا گیا، پھر جب لوگوں کے درمیان (فتنہ و فساد کے وقت) اختلاف ہوا تو انہوں نے اہل توحید اور اہل کتاب (مسلمانوں) سے قتال کرنے سے انکار کر دیا، اللہ نے انہیں سلامت رکھا کہ اس وقت انہوں نے کسی پر تیر نہیں چلایا اور نہ ہی انہیں کوئی تیر لگا۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6239
تخریج حدیث «أغلب الظن أنَّ سعيدًا هذا هو أبو صالح الغفاري المصري، فإنَّ بكر بن مضر مصريٌّ، وعليه فإنَّ إمكانية الانقطاع بينهما محتملة جدًّا، والله تعالى أعلم.» [ترقيم الرساله 6239] [ترقيم الشركة 6176]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) أغلب الظن أنَّ سعيدًا هذا هو أبو صالح الغفاري المصري، فإنَّ بكر بن مضر مصريٌّ، وعليه فإنَّ إمكانية الانقطاع بينهما محتملة جدًّا، والله تعالى أعلم.
فنی نکتہ / علّت: غالب گمان یہ ہے کہ ان 'سعید' سے مراد ابو صالح الغفاری المصری ہیں، کیونکہ بكر بن مضر بھی مصری ہیں، اس بنا پر ان دونوں کے درمیان 'انقطاع' (سند کا ٹوٹنا) کا قوی امکان ہے، واللہ اعلم۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6239 سے ماخوذ ہے۔