حدیث نمبر: 6201
حَدَّثَنَا أبو عبد الله الأصبهاني، حَدَّثَنَا الحسن بن الجَهْم، حَدَّثَنَا الحسين بن الفَرَج، حَدَّثَنَا محمد بن عمر قال: حدثني إبراهيم بن جعفر بن محمود بن محمد بن مَسلَمة الأَشهَلي، عن أبيه قال: كان حُوَيطبُ بن عبد العزَّى قد عاش عشرين ومئة سنة، ستِّين في الجاهلية وستِّين في الإسلام، فلما وَلِيَ مروانُ بن الحَكَم المدينةَ في عمله الأول دخل عليه حويطبٌ مع مَشيَحَةٍ جِلَّةٍ: حَكيمِ بن حِزام ومَخرَمةَ بن نوفل، فتحدّثوا عنده وتفرَّقوا، فدخل عليه حويطبٌ يومًا بعد ذلك فتحدَّث عنده، فقال له مروان: ما سنُك؟ فأخبره، فقال له مروان: تأخَّر إسلامُك أيها الشيخُ حتَّى سَبَقَك الأحداثُ، فقال حويطبٌ: والله لقد هَمَمتُ بالإسلام غيرَ مرّةٍ، كلَّ ذلك يَعُوقُني أبوك عنه وينهاني ويقول: تَضَعُ شَرَفَك ودينَ آبائك لدينٍ مُحدَثٍ وتصيرُ تابعًا؟! قال: فأَسكَتَ مروانُ، ونَدِمَ على ما كان قال له، ثم قال حُوَيطِب: أما كان أخبرك عثمانُ ما لَقِيَ من أبيك حين أسلمَ؟ فازداد مروانُ غمًّا. ثم قال حُويطب: ما كان في قريشٍ أحدٌ من كُبَرائها الذين بَقُوا على دينِ قومهم إلى أن فُتِحت مكةُ أكرهَ لِمَا فُتِحَت عليه مني، ولكن المقاديرُ، ولقد شهدتُ بدرًا مع المشركين فرأيتُ عِبَرًا، الملائكةَ تقتل وتَأسِرُ بين السماء والأرض، فقلت: هذا رجلٌ ممنوع، ولم أذكُرْ ما رأيتُ، فانهزَمْنا راجعين إلى مكة، فأقَمْنا بمكة وقريشٌ تُسلِمُ رجلًا رجلًا، فلما كان يومُ الحُدَيبيَةِ حَضَرتُ وشَهِدتُ الصُّلحَ ومشيتُ فيه حتَّى تمَّ، وكلَّ ذلك أُريد الإسلامَ ويَأْبى الله ﷿ إلَّا ما يريد، فلما كتبنا صلحَ الحديبية كنت أَحدَ (1) شهودِه، وقلت: لا ترى قريشٌ من محمدٍ إلَّا ما يَسُوؤُها، قد رَضِيَت أن دافعَتْه بالرَّاح، ولما قَدِمَ رسولُ الله ﷺ لعُمْرة القضيَّة وخرجت قريشٌ عن مكة، كنتُ فيمن تَخلَّف بمكة أنا وسُهَيلُ بن عمرو، لأن نُخرِجَ رسولَ الله ﷺ إذا مضى الوقتُ، فلما انقضَتِ الثلاثُ أقبلتُ أنا وسهيلُ بن عمرو فقلنا: قد مضى شَرْطُك، فاخرُجْ من بلدِنا، فصاحَ: "يا بلالُ، لا تَغِبِ الشمسُ وأَحدٌ من المسلمين بمكّةَ ممَّن قَدِمَ معنا" (2).
حافظ طلحہ بابر

ابراہیم بن جعفر بن محمود بن محمد بن مسلمہ اشہلی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا حویطب بن عبدالعزیٰ رضی اللہ عنہ نے ایک سو بیس سال کی عمر پائی، جن میں سے ساٹھ سال دورِ جاہلیت میں اور ساٹھ سال دورِ اسلام میں گزارے، پھر جب مروان بن حکم پہلی بار مدینہ کا گورنر بنا تو حویطب بن عبدالعزیٰ، حکیم بن حزام اور مخرمہ بن نوفل جیسے جلیل القدر بزرگوں کے ہمراہ اس کے پاس گئے، ان حضرات نے وہاں گفتگو کی اور پھر رخصت ہو گئے، اس کے کچھ عرصہ بعد حویطب دوبارہ مروان کے پاس گئے اور بات چیت کی، مروان نے ان سے پوچھا کہ آپ کی عمر کتنی ہے؟ جب انہوں نے اپنی عمر بتائی تو مروان نے کہا: ”اے بزرگ! آپ کے اسلام لانے میں اتنی تاخیر ہوئی کہ نوجوان آپ سے سبقت لے گئے۔“ حویطب نے جواب دیا: ”اللہ کی قسم! میں نے ایک بار نہیں بلکہ کئی مرتبہ اسلام لانے کا پختہ ارادہ کیا تھا مگر ہر بار تمہارا باپ (حکم بن عاص) آڑے آتا اور مجھے روک دیتا، وہ کہتا تھا کہ کیا تم اپنے آباؤ اجداد کی شرافت اور قدیم دین کو ایک نئے ایجاد کردہ دین کی خاطر چھوڑ کر کسی کے تابع بننا چاہتے ہو؟“ یہ سن کر مروان خاموش ہو گیا اور اپنی بات پر پشیمان ہوا، پھر حویطب نے مزید کہا: ”کیا تمہیں عثمان رضی اللہ عنہ نے یہ نہیں بتایا تھا کہ جب وہ اسلام لائے تھے تو تمہارے باپ سے انہیں کس قدر تکالیف پہنچی تھیں؟“ اس بات سے مروان کا غم مزید بڑھ گیا، پھر حویطب نے فرمایا: ”قریش کے ان بڑے بوڑھوں میں جو فتح مکہ تک اپنی قوم کے دین پر قائم رہے، مجھ سے بڑھ کر فتح مکہ کو ناپسند کرنے والا کوئی نہ تھا، لیکن تقدیر کے فیصلے اٹل ہوتے ہیں، میں نے مشرکین کے ساتھ غزوہ بدر میں شرکت کی تھی اور وہاں اپنی آنکھوں سے عبرتناک مناظر دیکھے تھے؛ میں نے فرشتوں کو زمین و آسمان کے درمیان قتل کرتے اور قیدی بناتے دیکھا، تو مجھے یقین ہو گیا کہ یہ شخص (محمد ﷺ) اللہ کی طرف سے محفوظ ہے، مگر میں نے جو کچھ دیکھا تھا اس کا ذکر کسی سے نہیں کیا، پھر ہم شکست خوردہ ہو کر مکہ واپس آ گئے اور مکہ میں مقیم رہے جبکہ قریش کا ایک ایک آدمی اسلام لاتا رہا، پھر حدیبیہ کے دن میں صلح کے موقع پر موجود تھا اور اس معاملے کو مکمل کرنے کے لیے دوڑ دھوپ کرتا رہا، اس دوران بھی میرا دل اسلام کی طرف مائل ہوتا رہا مگر اللہ وہی کرتا ہے جو اسے منظور ہوتا ہے، جب صلح نامہ تحریر ہوا تو میں اس کے گواہوں میں شامل تھا، میں نے اس وقت کہا تھا کہ قریش محمد (ﷺ) سے وہی دیکھیں گے جو انہیں ناپسند ہوگا کیونکہ وہ تو محض ان سے ہاتھ روک لینے پر ہی راضی ہو گئے تھے، پھر جب رسول اللہ ﷺ عمرۃ القضاء کے لیے تشریف لائے اور قریش مکہ سے باہر نکل گئے، تو میں اور سہیل بن عمرو ان لوگوں میں شامل تھے جو مکہ میں پیچھے رہ گئے تھے تاکہ مقررہ وقت ختم ہونے پر رسول اللہ ﷺ کو وہاں سے رخصت کریں، چنانچہ جب تین دن کی مدت ختم ہو گئی تو میں اور سہیل بن عمرو آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: آپ کی شرط کی مدت پوری ہو گئی ہے، اب آپ ہمارے شہر سے تشریف لے جائیں، تو آپ ﷺ نے بلند آواز سے فرمایا: ”اے بلال! سورج غروب ہونے سے پہلے مسلمانوں میں سے کوئی بھی مکہ میں باقی نہ رہے جو ہمارے ساتھ آیا تھا۔““

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6201
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف تفرَّد به محمد بن عمر الواقدي
تخریج حدیث «إسناده ضعيف تفرَّد به محمد بن عمر الواقدي، وإبراهيم بن جعفر وأبوه صالحان، وأغلب الظن أنه منقطع بين جعفر بن محمود وحويطب.» [ترقيم الرساله 6201] [ترقيم الشركة 6139]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) في (ز) و (ب): آخر، والمثبت من (م) و (ص) ومصادر التخريج، وهو الصواب.
فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ز) اور (ب) میں 'آخر' لکھا ہے، جبکہ (م) اور (ص) اور دیگر مآخذ میں جو لفظ ہے وہی درست ہے۔
(2) إسناده ضعيف تفرَّد به محمد بن عمر الواقدي، وإبراهيم بن جعفر وأبوه صالحان، وأغلب الظن أنه منقطع بين جعفر بن محمود وحويطب.
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس میں محمد بن عمر الواقدی منفرد ہیں، ابراہیم بن جعفر اور ان کے والد 'صالح' راوی ہیں مگر غالب گمان یہی ہے کہ جعفر بن محمود اور حویطب کے درمیان سند 'منقطع' (ٹوٹی ہوئی) ہے۔
ورواه عن محمد بن عمر الواقدي بن سعد في "الطبقات" 6/ 127 - 12 ومن طريقه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 15/ 361، وابن الجوزي في "المنتظم" 5/ 273 - 274.
حوالہ / مصدر: اسے واقدی سے ابن سعد نے 'الطبقات' (6/ 127) میں اور ان کے واسطے سے ابن عساکر نے 'تاریخ دمشق' (15/ 361) اور ابن الجوزی نے 'المنتظم' (5/ 273-274) میں روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6201 سے ماخوذ ہے۔