حدیث نمبر: 6200
حَدَّثَنَا الشيخ الإمام أبو بكر بن إسحاق، حَدَّثَنَا أحمد بن علي الخَزَّاز، حَدَّثَنَا داود بن مِهران الدَّبّاغ، حَدَّثَنَا مُسلم بن خالد الزَّنْجي، عن ابن أبي نَجِيح، عن أبيه، عن حُوَيطب بن عبد العزّى قال: كنا قعودًا يومًا بفِناء الكعبة في الجاهلية، إذ جاءت امرأةٌ تَعُوذُ بالكعبة من زوجها، فجاء زوجها فمدَّ يدَه إليها، فيَبِسَت يدُه، فلقد رأيته في الإسلام وإنه لأَشلُّ (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6083 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

حویطب بن عبدالعزیٰ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ زمانہ جاہلیت میں ہم ایک دن خانہ کعبہ کے صحن میں بیٹھے تھے کہ اچانک ایک عورت اپنے شوہر سے پناہ مانگتے ہوئے کعبہ کی پناہ میں آئی، اس کا شوہر پیچھے سے آیا اور اسے پکڑنے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو اس کا ہاتھ وہیں شل (خشک) ہو گیا، میں نے اسے دورِ اسلام میں دیکھا وہ واقعی اپاہج تھا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6200
درجۂ حدیث محدثین: خبر مضطرب
تخریج حدیث «خبر مضطرب، وهذا إسناد ليِّن من أجل مسلم بن خالد الزَّنجي، ففيه ضعف، وباقي رجاله ثقات إلّا أنَّ أبا نجيح المكي لم يصرح بسماعه له من حويطب. ابن أبي نجيح: هو عبد الله بن يسار المكي.» [ترقيم الرساله 6200] [ترقيم الشركة 6138] [ترقيم العلميه 6083]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) خبر مضطرب، وهذا إسناد ليِّن من أجل مسلم بن خالد الزَّنجي، ففيه ضعف، وباقي رجاله ثقات إلّا أنَّ أبا نجيح المكي لم يصرح بسماعه له من حويطب. ابن أبي نجيح: هو عبد الله بن يسار المكي.
درجۂ حدیث: یہ خبر 'مضطرب' ہے اور اس کی سند 'لین' (کمزور) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس کی وجہ مسلم بن خالد الزنجی ہیں جن میں ضعف پایا جاتا ہے، باقی راوی ثقہ ہیں مگر ابو نجيح المکی (عبد اللہ بن یسار المکی) نے حویطب سے اپنے سماع کی صراحت نہیں کی (یعنی سند میں انقطاع کا خدشہ ہے)۔
وأخرجه الأزرقي في "أخبار مكة" 2/ 25، وابن أبي الدنيا في "العقوبات" (306)، والبغوي في "معجم الصحابة" (551) من طرق عن مسلم بن خالد، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ازرقی نے "اخبار مکہ" (2/ 25)، ابن ابی الدنیا نے "العقوبات" (306) اور بغوی نے "معجم الصحابہ" (551) میں مسلم بن خالد کے متعدد طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه كذلك الطبراني في "الكبير" (3068) - ومن طريقه أبو نعيم في "معرفة الصحابة" (1875) - من طريق يعقوب بن أبي عباد المكي، عن داود بن عبد الرحمن العطار ومسلم بن خالد الزنجي، عن ابن أبي نجيح، به. فقرن بمسلم الزنجي داودَ العطار وحمل روايته على روايته، وهو خطأ، ولعله من يعقوب بن أبي عباد - وهو يعقوب بن إسحاق بن أبي عباد - وهو صدوق لا بأس به، إلّا أنه خولف في رواية داود بن عبد الرحمن.
فنی نکتہ / علّت: طبرانی (3068) اور ابو نعیم (1875) نے اسے یعقوب بن ابی عباد المکی کے طریق سے داؤد العطار اور مسلم الزنجی کو ملا کر روایت کیا ہے، جو کہ غلطی ہے۔ داؤد العطار کی روایت کو مسلم الزنجی کی روایت پر محمول کر دیا گیا، یہ غلطی غالباً یعقوب بن ابی عباد سے ہوئی ہے جو کہ خود تو 'صدوق' ہیں مگر داؤد بن عبد الرحمن کی روایت میں ان کی مخالفت کی گئی ہے۔
فقد رواه ثلاثة غيره لا بأس بهم عن داود العطار، عن عبد الله بن عثمان بن خثيم، عن ابن أبي نجيح، عن حويطب بن عبد العزى قال: كان في الجاهلية في الكعبة حَلَقٌ أمثال لُجُم البُهْم، يُدخل الخائف فيها يده فلا يريبه أحد، فلما كان ذات يوم ذهب خائف ليُدخل يده فيها فاجتبذه رجل فشَلَّتَ يده، فأدركه الإسلام وإنه لأشلُّ. أخرجه الأزرقي 1/ 167 و 2/ 24، وابن أبي الدنيا (311)، وابن المنذر في "تفسيره" (733). فهذا داود العطار قد رواه عن ابن أبي جريج بواسطة ابن خثيم، وجاء به بلفظ يخالف لفظ مسلم الزنجي.
تفصیلِ روایت: یعقوب کے علاوہ تین دیگر معتبر راویوں نے داؤد العطار عن ابن خثیم عن ابن ابی نجيح کے طریق سے روایت کیا ہے کہ جاہلیت میں کعبہ میں جانوروں کی لگام جیسی کڑیاں لگی تھیں جن میں خوفزدہ شخص ہاتھ ڈال دیتا تو اسے کوئی ہاتھ نہ لگاتا؛ ایک بار کسی نے ایک خوفزدہ شخص کا ہاتھ کھینچ لیا تو اس کا اپنا ہاتھ شل (اپاہج) ہو گیا اور وہ اسلام کے دور تک اسی حال میں رہا۔
حوالہ / مصدر: اسے ازرقی (1/ 167)، ابن ابی الدنیا (311) اور ابن المنذر نے اپنی تفسیر (733) میں روایت کیا ہے۔ اس میں داؤد العطار کے الفاظ مسلم الزنجی کے الفاظ سے مختلف ہیں۔
وخالف معمرٌ في لفظه فرواه عنه عبد الرزاق في "مصنفه" (8866) عن ابن خثيم، قال: أخبرني أبو نجيح عن حويطب بن عبد العزى أنَّ أَمَة في الجاهلية عاذت بالبيت، فجاءت سيدتها فجبذتها، فشَلَّت يدها، قال: ولقد جاء الإسلام وإن يدها لشلّاء.
تفصیلِ روایت: امام معمر نے بھی اس کے الفاظ میں مخالفت کی ہے، اسے عبد الرزاق نے 'مصنف' (8866) میں ابن خثیم کے طریق سے روایت کیا ہے کہ جاہلیت میں ایک لونڈی نے بیت اللہ میں پناہ لی، اس کی مالکن نے اسے کھینچا تو اس کا ہاتھ شل ہو گیا، اور اسلام کے آنے تک اس کا ہاتھ شل ہی رہا۔
وقد روى عبد الرزاق في "مصنفه" (8865) عن معمرٍ، عن عبد الله بن طاووس، عن أبيه قال: كان أهل الجاهلية لا يصيبون في الحرم شيئًا إلّا عُجّل لهم.
حوالہ / مصدر: عبد الرزاق نے 'مصنف' (8865) میں معمر عن عبد اللہ بن طاؤوس عن ابیہ کی سند سے روایت کیا ہے کہ جاہلیت والے حرم میں جو بھی (گناہ) کرتے تھے، اس کا بدلہ انہیں فوراً (دنیا میں ہی) دے دیا جاتا تھا۔
ونقل ابن حجر في "الفتح" 11/ 297 عن كتاب "مجابي الدعوة" لابن أبي الدنيا في قصة طويلة في معني سرعة الإجابة بالحرم للمظلوم فيمن ظلمه، قال: فقال عمر: كان يُفعَل بهم ذلك في الجاهلية ليتناهَوْا عن الظلم، لأنهم كانوا لا يعرفون البعث، فلما جاء الإسلام أُخِّر القصاص إلى يوم القيامة.
مجموعی اصول / قاعدہ: حافظ ابن حجر نے "فتح الباری" (11/ 297) میں ابن ابی الدنیا کی کتاب سے ایک طویل قصہ نقل کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت عمر نے فرمایا: جاہلیت میں لوگوں کے ساتھ (فوری سزا کا) معاملہ اس لیے ہوتا تھا تاکہ وہ ظلم سے باز رہیں کیونکہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کو نہیں جانتے تھے، لیکن جب اسلام آیا تو قصاص کو قیامت کے دن تک کے لیے مؤخر کر دیا گیا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6200 سے ماخوذ ہے۔