حدیث نمبر: 62
62 - كما حدَّثَناه جعفر بن محمد بن (4) نُصَير الخُلدي، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا أبو نعيم، حدثنا يزيد بن المقدام بن شُرَيح، عن أبيه، عن شُريح بن هانئ، قال: حدثني أبي هانئُ بن يزيد: أنه وَفَدَ إلى رسول الله ﷺ، فسمعه النبيُّ ﷺ يَكنُونه بأبي الحَكَم، فقال: "إنَّ الله هو الحَكَمُ، لِمَ تُكنَى بأبي الحَكَم؟ " قال: إنَّ قومي إذا اختلفوا حَكَمتُ بينهم، فرَضِيَ الفريقان، قال: "هل لكَ ولدٌ؟ " قال: شُرَيحٌ وعبدُ الله ومسلمٌ بنو هانئ، قال: "فمَن أكبَرُهم؟ " قال: شريحٌ، قال: "فأنتَ أبو شُرَيح"، فدعا له ولولده (5). وقد ذكرتُ في كتاب "المعرفة" في ذِكْر المخضرَمِين شريحَ بن هانئ، فإنه أدركَ الجاهليةَ والإسلامَ، ولم يَرَ رسولَ الله ﷺ، فصار عِدادُه في التابعين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 62 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

سیدنا شریح بن ہانی اپنے والد ہانی بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں وفد لے کر آئے، نبی کریم ﷺ نے سنا کہ لوگ انہیں ’ابوالحکم‘ کی کنیت سے پکار رہے ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ ہی الحکم (حقیقی فیصلہ کرنے والا) ہے، تم اپنی کنیت ابوالحکم کیوں رکھتے ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: میری قوم میں جب کوئی اختلاف ہوتا ہے تو میں ان کے درمیان فیصلہ کرتا ہوں اور دونوں فریق راضی ہو جاتے ہیں، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تمہاری کوئی اولاد ہے؟“ انہوں نے کہا: ہانی کے بیٹے شریح، عبداللہ اور مسلم ہیں، آپ ﷺ نے پوچھا: ”ان میں سب سے بڑا کون ہے؟“ انہوں نے کہا: شریح، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو پھر تم ’ابوشریح‘ ہو۔“ پھر آپ ﷺ نے ان کے اور ان کی اولاد کے لیے دعا فرمائی۔
میں نے کتاب ”المعرفہ“ میں مخضرمین کے ذکر میں شریح بن ہانی کا تذکرہ کیا ہے، انہوں نے جاہلیت اور اسلام دونوں کا زمانہ پایا مگر رسول اللہ ﷺ کو دیکھ نہ سکے اس لیے ان کا شمار تابعین میں ہوتا ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإيمان / حدیث: 62
درجۂ حدیث محدثین: إسناده قوي
تخریج حدیث «إسناده قوي،، أبو نعيم: هو الفضل بن دُكين» [ترقيم الرساله 62] [ترقيم الشركة 62] [ترقيم العلميه 62]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(4) تحرَّف في (ص) إلى: عن.
فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ص) میں لفظ کی تحریف ہوگئی ہے اور وہاں "عن" لکھ دیا گیا ہے۔
(5) إسناده قوي. أبو نعيم: هو الفضل بن دُكين.
درجۂ حدیث: اس کی سند قوی ہے۔
فنی نکتہ / علّت: سند میں مذکور ابونعیم سے مراد الفضل بن دکین ہیں۔
وأخرجه أبو داود (4955)، والنسائي (5907)، وابن حبان (504) من طرق عن يزيد بن المقدام بهذا الإسناد. وانظر ما قبله.

وسيأتي مختصرًا برقم (7934) من طريق قيس بن الربيع عن المقدام بن شريح.

حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (4955)، نسائی (5907) اور ابن حبان (504) نے مختلف طرق سے یزید بن مقدام کی اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
اہم نکتہ: اس کی سابقہ روایت بھی ملاحظہ کریں، اور یہی روایت آگے چل کر نمبر (7934) پر قیس بن ربیع کے واسطے سے (جو مقدام بن شریح سے روایت کرتے ہیں) مختصرًا آئے گی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 62 سے ماخوذ ہے۔