حدیث نمبر: 6190
أخبرنا أبو محمد عبد الله بن جعفر بن دَرَستَوَيهِ الفارسي، حَدَّثَنَا يعقوب بن سفيان الفارسي، حَدَّثَنَا سعيد بن عُفَير وسعيد بن أبي مريم وعبد الله بن صالح ويحيى بن بُكَير المِصريُّون بمِصر، حَدَّثَنَا ابن لَهِيعة، عن أبي الأسود، عن عُرْوة بن الزُّبير، عن المِسوَر بن مَخرَمة الزُّهْري، عن أبيه قال: لما أَظهَرَ رسولُ الله ﷺ الإسلامَ أسلم أهلُ مكة كلُّهم، وذلك قبل أن تُفرَضَ الصلاة، حتَّى إذا كان يقرأُ السجدةَ ما يستطيع أحدُهم أن يسجد، حتَّى قَدِمَ رؤساءُ قريشٍ الوليدُ بن المغيرة وأبو جَهْل بن هشام وغيرُهما، وكانوا بالطائف في أرَضِيهم، فقالوا: تَدَعُون دينَ آبائكم؟! فكَفَروا (1). قال يعقوب بن سفيان: ولا نعلمُ لمخرمةَ بن نوفلٍ حديثًا مسنَدًا غيرَ هذا. ذكرُ مناقب سعيد بن يَربُوعٍ المخزومي ﵁ -
حافظ طلحہ بابر

سیدنا مسور بن مخرمہ زہری اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے اسلام کا اظہار فرمایا تو مکہ کے تمام لوگ اسلام لے آئے، یہ نماز فرض ہونے سے پہلے کی بات ہے، یہاں تک کہ جب آپ ﷺ سجدے والی آیت تلاوت فرماتے تو (ہجوم کی وجہ سے) کسی کو سجدہ کرنے کی جگہ نہ ملتی، یہاں تک کہ قریش کے سردار ولید بن مغیرہ اور ابوجہل بن ہشام وغیرہ طائف سے اپنی زمینوں سے واپس آئے اور کہنے لگے: ”کیا تم اپنے آباؤ اجداد کا دین چھوڑ رہے ہو؟“ پس وہ لوگ دوبارہ کفر کی طرف لوٹ گئے۔ یعقوب بن سفیان کہتے ہیں کہ ہمیں مخرمہ بن نوفل سے اس کے علاوہ کوئی مسند حدیث معلوم نہیں ہے۔
سیدنا سعید بن یربوع مخزومی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6190
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لتفرد عبد الله بن لَهِيعة به وسوء حفظه. أبو الأسود: هو محمد بن عبد الرحمن الأسدي يتيم عروة.» [ترقيم الرساله 6190] [ترقيم الشركة 6130]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف لتفرد عبد الله بن لَهِيعة به وسوء حفظه. أبو الأسود: هو محمد بن عبد الرحمن الأسدي يتيم عروة.
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس کے ضعیف ہونے کی وجہ عبد اللہ بن لہیعہ کا اس میں منفرد ہونا اور ان کا 'سوءِ حفظ' (حافظے کی کمزوری) ہے۔ ابو الاسود سے مراد محمد بن عبد الرحمن الاسدی ہیں جو عروہ بن زبیر کے زیرِ پرورش یتیم تھے۔
وأخرجه يحيى بن معين في "تاريخه" برواية الدوري (212)، وابن أبي عاصم في "الآحاد والمثاني" (617)، والطحاوي في "معاني الآثار" 3/ 331 - 33 والطبراني في "الكبير" (20/ 2)، والبيهقي في "معرفة السنن والآثار" (18268 - 18269)، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 57/ 154 و 155 من هذه الطرق التي عند المصنّف عن ابن لَهِيعة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے یحییٰ بن معین نے اپنی "تاریخ" بروایت دوری (212)، ابن ابی عاصم نے "الآحاد والمثانی" (617)، طحاوی نے "معانی الآثار" (3/ 331-332)، طبرانی نے "المعجم الکبیر" (20/ 2)، بیہقی نے "معرفۃ السنن والآثار" (18268-18269) اور ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (57/ 154، 155) میں انہی طرق سے روایت کیا ہے جو مصنف کے ہاں ابن لہیعہ سے اسی سند کے ساتھ موجود ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6190 سے ماخوذ ہے۔