المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
مَخْرَمَةُ كَانَ عَالِمًا بِأَنْسَابِ قُرَيْشٍ باب: سیدنا مخرمہ بن نوفل رضی اللہ عنہ قریش کے انساب کے بڑے عالم تھے
حدیث نمبر: 6184
حَدَّثَنَا أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد، حَدَّثَنَا محمد بن إسماعيل التِّرمِذي، حَدَّثَنَا مَخلَد بن مالك، حَدَّثَنَا الليث بن سعد وعَطَّاف بن خالد، عن ابن أبي مُلَيكة قال: أخبرني المِسوَر بن مَخرَمة قال: قال النَّبِيّ ﷺ لأبي (1): "يا أبا صفوان" (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے میرے والد سے مخاطب ہو کر فرمایا: ”اے ابو صفوان۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) في النسخ الخطية: "لا يا أبا صفوان"، والمثبت من "الأنساب والكنى" لأبي أحمد الحاكم و"الاستيعاب" لابن عبد البر.
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں "لا یا ابا صفوان" ہے، جبکہ ہم نے ابو احمد حاکم کی "الانساب والکنی" اور ابن عبد البر کی "الاستیعاب" کے مطابق تصحیح کی ہے۔
(2) إسناده قوي من أجل مخلد بن مالك: وهو ابن شيبان الحراني، وأما شيخه عطاف بن خالد فإنه صدوق حسن الحديث ليس بذاك المتين، لكنه متابع. قلنا: ويغلب على ظننا أنَّ اللفظ المساق هنا بذكر تكنية مخرمة بأبي صفوان هو لعطاف بن خالد، فقد روى القصة غير واحد عن الليث بن سعد ليس فيه الكنية إنما باسمه مجرّدًا من كنيته، انظر: أحمد (31/ 18927)، والبخاري (2599)، ومسلمًا (1058) (129)، وأبا داود (4028)، والترمذي (2818)، والنسائي (9584)، وابن حبان (4817) و (4818). ورواه حماد بن زيد عن أيوب السختياني عن ابن أبي مليكة عند البخاري (3127) فقال فيه: "يا أبا المِسوَر". إذًا فعطاف بن خالد واهمٌ في ذكر الكنية بأبي صفوان، والله أعلم.
درجۂ حدیث: مخلد بن مالک (ابن شیبان الحرانی) کی وجہ سے سند قوی ہے، جبکہ ان کے شیخ عطاف بن خالد 'صدوق حسن الحدیث' ہیں مگر زیادہ پختہ نہیں، البتہ وہ یہاں بطورِ متابع ہیں۔
فنی نکتہ / علّت: ہمارا غالب گمان ہے کہ مخرمہ کی کنیت 'ابو صفوان' ذکر کرنا عطاف بن خالد کا وہم ہے، کیونکہ لیث بن سعد سے روایت کرنے والے دیگر راویوں نے کنیت ذکر نہیں کی، اور بخاری (3127) میں حماد بن زید کی روایت میں اسے "یا ابا المسور" کہا گیا ہے۔ لہٰذا 'ابو صفوان' کہنا عطاف بن خالد کی غلطی ہے۔
وأخرجه كرواية المصنّف أبو أحمد الحاكم فيمن كنيته أبو صفوان من "الأسامي والكنى" ورقة 237 عن أبي العبّاس الثقفي، عن محمد بن إسماعيل الترمذي، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: مصنف جیسی روایت ابو احمد حاکم نے "الاسامی والکنی" (ورق 237) میں ابو العباس الثقفی عن محمد بن اسماعیل الترمذی کی سند سے روایت کی ہے۔
وذكره ابن عبد البر في "الاستيعاب" ص 677 معلقًا من رواية الليث بن سعد، عن ابن أبي مليكة، به.
حوالہ / مصدر: ابن عبد البر نے اسے "الاستیعاب" (ص 677) میں لیث بن سعد عن ابن ابی ملیکہ کے طریق سے 'معلقاً' ذکر کیا ہے۔
وقد روى هذا الحديث ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 57/ 156 - 157 - ضمن خبر في قَسْم رسول الله ﷺ أقبية بين أصحابه - من طريق إسحاق بن سيار النصيبي، عن مخلد بن مالك، به.
حوالہ / مصدر: اسے ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (57/ 156-157) میں رسول اللہ ﷺ کی جانب سے صحابہ میں قبائیں تقسیم کرنے کے واقعے کے ضمن میں اسحاق بن سیار النصیبی عن مخلد بن مالک کی سند سے روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں "لا یا ابا صفوان" ہے، جبکہ ہم نے ابو احمد حاکم کی "الانساب والکنی" اور ابن عبد البر کی "الاستیعاب" کے مطابق تصحیح کی ہے۔
(2) إسناده قوي من أجل مخلد بن مالك: وهو ابن شيبان الحراني، وأما شيخه عطاف بن خالد فإنه صدوق حسن الحديث ليس بذاك المتين، لكنه متابع. قلنا: ويغلب على ظننا أنَّ اللفظ المساق هنا بذكر تكنية مخرمة بأبي صفوان هو لعطاف بن خالد، فقد روى القصة غير واحد عن الليث بن سعد ليس فيه الكنية إنما باسمه مجرّدًا من كنيته، انظر: أحمد (31/ 18927)، والبخاري (2599)، ومسلمًا (1058) (129)، وأبا داود (4028)، والترمذي (2818)، والنسائي (9584)، وابن حبان (4817) و (4818). ورواه حماد بن زيد عن أيوب السختياني عن ابن أبي مليكة عند البخاري (3127) فقال فيه: "يا أبا المِسوَر". إذًا فعطاف بن خالد واهمٌ في ذكر الكنية بأبي صفوان، والله أعلم.
درجۂ حدیث: مخلد بن مالک (ابن شیبان الحرانی) کی وجہ سے سند قوی ہے، جبکہ ان کے شیخ عطاف بن خالد 'صدوق حسن الحدیث' ہیں مگر زیادہ پختہ نہیں، البتہ وہ یہاں بطورِ متابع ہیں۔
فنی نکتہ / علّت: ہمارا غالب گمان ہے کہ مخرمہ کی کنیت 'ابو صفوان' ذکر کرنا عطاف بن خالد کا وہم ہے، کیونکہ لیث بن سعد سے روایت کرنے والے دیگر راویوں نے کنیت ذکر نہیں کی، اور بخاری (3127) میں حماد بن زید کی روایت میں اسے "یا ابا المسور" کہا گیا ہے۔ لہٰذا 'ابو صفوان' کہنا عطاف بن خالد کی غلطی ہے۔
وأخرجه كرواية المصنّف أبو أحمد الحاكم فيمن كنيته أبو صفوان من "الأسامي والكنى" ورقة 237 عن أبي العبّاس الثقفي، عن محمد بن إسماعيل الترمذي، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: مصنف جیسی روایت ابو احمد حاکم نے "الاسامی والکنی" (ورق 237) میں ابو العباس الثقفی عن محمد بن اسماعیل الترمذی کی سند سے روایت کی ہے۔
وذكره ابن عبد البر في "الاستيعاب" ص 677 معلقًا من رواية الليث بن سعد، عن ابن أبي مليكة، به.
حوالہ / مصدر: ابن عبد البر نے اسے "الاستیعاب" (ص 677) میں لیث بن سعد عن ابن ابی ملیکہ کے طریق سے 'معلقاً' ذکر کیا ہے۔
وقد روى هذا الحديث ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 57/ 156 - 157 - ضمن خبر في قَسْم رسول الله ﷺ أقبية بين أصحابه - من طريق إسحاق بن سيار النصيبي، عن مخلد بن مالك، به.
حوالہ / مصدر: اسے ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (57/ 156-157) میں رسول اللہ ﷺ کی جانب سے صحابہ میں قبائیں تقسیم کرنے کے واقعے کے ضمن میں اسحاق بن سیار النصیبی عن مخلد بن مالک کی سند سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6184 سے ماخوذ ہے۔