حدیث نمبر: 6182
فحدثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حَدَّثَنَا الحسن بن الجَهْم، حَدَّثَنَا الحسين بن الفَرَج، حَدَّثَنَا محمد بن عمر قال: أسلمَ مَخرمةُ بن نوفل عند فتح مكّة، وكان عالمًا بنَسَب قريش وأحاديثِها، وكانت له معرفةٌ بأنصاب الحَرَم (2)، فوَلَدَ مخرمةُ صفوانَ، وبه كان يُكنَى، وهو الأكبر من ولده.
حافظ طلحہ بابر

محمد بن عمر سے روایت ہے کہ سیدنا مخرمہ بن نوفل رضی اللہ عنہ فتح مکہ کے موقع پر اسلام لائے، وہ قریش کے نسب اور ان کی تاریخ کے بڑے عالم تھے اور انہیں حدودِ حرم کے نشانات کی بھی گہری پہچان تھی، ان کے ہاں بیٹے صفوان پیدا ہوئے جن کی نسبت سے ان کی کنیت ابو صفوان پڑی اور وہ ان کی سب سے بڑی اولاد تھے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6182
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 6182] [ترقيم الشركة 6122]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) قال الأستاذ عاتق البلادي الحربي ﵀ في "معجم المعالم الجغرافية في السيرة النبوية" ص 33: هي أنصاب مبنية من الحجارة المجصّصة على جوانب الطرق الخارجة من مكة، فما وراءَها حِلٌّ وما دونها حرام، وهي حدود موروثة من عهد قريش، ثم أقرّها رسول الله ﷺ وحافظ عليها المسلمون على مرِّ السنين.
مجموعی اصول / قاعدہ: استاد عاتق البلادی نے "معجم المعالم الجغرافية" (ص 33) میں وضاحت کی ہے کہ یہ مکہ سے نکلنے والے راستوں پر چونے گچ پتھروں سے بنے نشانات (انصاب) ہیں؛ ان سے باہر 'حل' اور اندر 'حرم' ہے۔ یہ حدود قریش کے دور سے چلی آ رہی تھیں جنہیں رسول اللہ ﷺ نے برقرار رکھا اور مسلمانوں نے صدیوں ان کی حفاظت کی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6182 سے ماخوذ ہے۔