المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ مَنَاقِبِ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ الْقُرَشِيُّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - باب: سیدنا مہاجر بن قنفذ قرشی رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
حدیث نمبر: 6139
حَدَّثَنَا عبد الباقي بن قانِع الحافظ، حَدَّثَنَا محمد بن يحيى القَزَّاز، حَدَّثَنَا العبّاس بن طالب، حَدَّثَنَا يزيد بن زُرَيع، عن سعيد بن أبي عَرُوبة، عن قَتَادة، عن الحسن، عن حُضَين بن المنذِر، عن المُهاجر بن قُنفُذٍ: قال: مررتُ برسول الله ﷺ وهو يتوضأ، فسلَّمتُ عليه، فلم يَرُدَّ عليَّ، فلما فَرَغَ ردَّه عليَّ واعتَذَر إليَّ وقال: "إنه لم يَمنَعْني أن أردَّ عليك إلَّا أَنِّي كرهتُ أن أَذكرَ الله ﷿ وأنا على غيرِ طهارةٍ" (1). ذكرُ مناقب كعب بن عُجْرة الأنصاري ﵁ -
حافظ طلحہ بابر
سیدنا مہاجر بن قنفذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میرا گزر رسول اللہ ﷺ کے پاس سے ہوا جبکہ آپ ﷺ وضو فرما رہے تھے، میں نے آپ ﷺ کو سلام کیا لیکن آپ ﷺ نے جواب نہیں دیا، پھر جب آپ ﷺ وضو سے فارغ ہوئے تو میرے سلام کا جواب دیا اور مجھ سے معذرت کرتے ہوئے فرمایا: ”مجھے تمہارے سلام کا جواب دینے سے کسی چیز نے نہیں روکا تھا سوائے اس کے کہ میں نے طہارت کے بغیر اللہ عزوجل کا نام لینا ناپسند کیا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد فيه لِينٌ من أجل العبّاس بن طالب - وهو البصري - فقد قال فيه أبو زرعة: ليس بذاك، وذكره ابن حبان في "الثقات"، وقد توبع، ومن فوقه ثقات. قتادة: هو ابن دعامة السدوسي، والحسن: هو البصري.
درجۂ حدیث: یہ "صحیح حدیث" ہے، اگرچہ عباس بن طالب البصری کی وجہ سے اس سند میں کچھ کمزوری (لین) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابو زرعہ نے عباس کے بارے میں کلام کیا ہے مگر ابن حبان نے انہیں ثقات میں رکھا ہے اور ان کی متابعت بھی موجود ہے۔
اہم نکتہ: قتادہ سے مراد ابن دعامہ السدوسی اور الحسن سے مراد امام حسن بصری ہیں۔
وأخرجه أحمد 31/ (19034) و 34/ (20760)، وأبو داود (17)، وابن ماجه (350)، والنسائي (34)، وابن حبان (803) و (806) من طرق عن سعيد بن أبي عروبة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، ابو داؤد، ابن ماجہ، نسائی اور ابن حبان نے سعید بن ابی عروبہ کے مختلف طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وتقدَّم من طريق شعبة عن قتادة عند المصنّف برقم (601).
حوالہ / مصدر: یہ مصنف کے ہاں امام شعبہ عن قتادہ کے طریق سے پہلے نمبر (601) پر گزر چکی ہے۔
درجۂ حدیث: یہ "صحیح حدیث" ہے، اگرچہ عباس بن طالب البصری کی وجہ سے اس سند میں کچھ کمزوری (لین) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابو زرعہ نے عباس کے بارے میں کلام کیا ہے مگر ابن حبان نے انہیں ثقات میں رکھا ہے اور ان کی متابعت بھی موجود ہے۔
اہم نکتہ: قتادہ سے مراد ابن دعامہ السدوسی اور الحسن سے مراد امام حسن بصری ہیں۔
وأخرجه أحمد 31/ (19034) و 34/ (20760)، وأبو داود (17)، وابن ماجه (350)، والنسائي (34)، وابن حبان (803) و (806) من طرق عن سعيد بن أبي عروبة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، ابو داؤد، ابن ماجہ، نسائی اور ابن حبان نے سعید بن ابی عروبہ کے مختلف طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وتقدَّم من طريق شعبة عن قتادة عند المصنّف برقم (601).
حوالہ / مصدر: یہ مصنف کے ہاں امام شعبہ عن قتادہ کے طریق سے پہلے نمبر (601) پر گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6139 سے ماخوذ ہے۔