المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ مَنَاقِبِ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ وَأَخِيهِ زِيَادِ بْنِ عُبَيْدٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - وَلَهُ أَيْضًا صُحْبَةٌ باب: سیدنا فضالہ بن عبید انصاری اور ان کے بھائی زیاد بن عبید رضی اللہ عنہما کے فضائل کا بیان، اور دونوں صحابی تھے
حدیث نمبر: 6110
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن قُتَيبة، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الله بن نُمَيرٍ قال: أبو محمد فَضَالةُ بن عُبيد بن الناقد بن صُهيب ابن جَحْجَبَى ابن كُلْفةَ (1) بن عوف الأنصاري، وأمُّه ابنة محمد بن عُقبة بن أُحَيحَة بن الجُلَاح، مات بدمشق سنة ثلاثٍ وخمسين، وفيها مات أخوه زياد بن عُبيد، ويقال: بعدَه بسنة (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا فضالہ بن عبید انصاری اور ان کے بھائی سیدنا زیاد بن عبید رضی اللہ عنہما کے مناقب کا ذکر، اور ان (زیاد) کو بھی شرفِ صحابیت حاصل ہے۔ محمد بن عبداللہ بن نمیر سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ابو محمد فضالہ بن عبید بن نافذ بن صہیب انصاری، جن کی والدہ محمد بن عقبہ بن احیحہ بن جلاح کی صاحبزادی تھیں، ان کی وفات 53 ہجری میں دمشق میں ہوئی، اور اسی سال ان کے بھائی زیاد بن عبید کی وفات ہوئی، جبکہ ایک قول کے مطابق وہ ان کے ایک سال بعد فوت ہوئے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرَّف في نسخنا الخطية إلى: علقمة، والتصويب من مصادر ترجمته وكتب الأنساب.
اہم نکتہ: قلمی نسخوں میں یہاں "علقمہ" تحریف ہو گیا ہے، تراجم اور انساب کی کتب کے مطابق اس کی تصحیح کر دی گئی ہے۔
(2) لم يذكر أحدٌ ممن ترجم لفضالة بن عبيد نسب أمه، وكذلك لم يذكروا أنَّ له أخًا اسمه زياد، لذلك تعقبه الذهبي في "تلخيصه" بقوله: لا أعرف زيادًا، إلا أن يكون ابن ابنه، وأحسب ابن نمير وهم في جعله أخًا له.
فنی نکتہ / علّت: فضالہ بن عبید کے کسی سوانح نگار نے ان کی والدہ کا نسب ذکر نہیں کیا اور نہ ہی ان کے کسی "زیاد" نامی بھائی کا ذکر ملتا ہے۔ اسی لیے امام ذہبی نے "تلخیص" میں تعاقب کرتے ہوئے فرمایا: "میں کسی زیاد کو نہیں جانتا، سوائے اس کے کہ وہ ان کا پوتا ہو؛ میرا خیال ہے کہ ابن نمیر کو انہیں (فضالہ کا) بھائی قرار دینے میں وہم ہوا ہے"۔
اہم نکتہ: قلمی نسخوں میں یہاں "علقمہ" تحریف ہو گیا ہے، تراجم اور انساب کی کتب کے مطابق اس کی تصحیح کر دی گئی ہے۔
(2) لم يذكر أحدٌ ممن ترجم لفضالة بن عبيد نسب أمه، وكذلك لم يذكروا أنَّ له أخًا اسمه زياد، لذلك تعقبه الذهبي في "تلخيصه" بقوله: لا أعرف زيادًا، إلا أن يكون ابن ابنه، وأحسب ابن نمير وهم في جعله أخًا له.
فنی نکتہ / علّت: فضالہ بن عبید کے کسی سوانح نگار نے ان کی والدہ کا نسب ذکر نہیں کیا اور نہ ہی ان کے کسی "زیاد" نامی بھائی کا ذکر ملتا ہے۔ اسی لیے امام ذہبی نے "تلخیص" میں تعاقب کرتے ہوئے فرمایا: "میں کسی زیاد کو نہیں جانتا، سوائے اس کے کہ وہ ان کا پوتا ہو؛ میرا خیال ہے کہ ابن نمیر کو انہیں (فضالہ کا) بھائی قرار دینے میں وہم ہوا ہے"۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6110 سے ماخوذ ہے۔