المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ مَنَاقِبِ أَبِي أَيُّوبَ الْأَزْدِيِّ - صَحَابِيٌّ مِنَ الزُّهَّادِ - باب: سیدنا ابو ایوب ازدی رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان، جو زاہد صحابی تھے
حدیث نمبر: 6063
حَدَّثَنَا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حَدَّثَنَا محمد بن أحمد بن النَّضْر الأزْدي، حَدَّثَنَا معاوية بن عمرو، عن أبي إسحاق الفَزَاري، عن إبراهيم بن كَثير، قال: سمعت عُمارَةَ بن غَزِيَّةَ يقول: دخل أبو أيوب الأزديُّ على معاوية، فذكرَ الحديثَ الذي تقدَّم لأبي أيوب الأنصاري بطوله (1).
هذا حديث مرسل، فإنَّ بين عمارة بن غَزِيَّةَ وبين أبي أيوب ومعاوية مَفَازةٌ، وحديث أبي أيوب الأنصاري متّصلٌ مسنَد. ذكرُ مناقب جَرير بن عبد الله البَجَلي ﵁ -
حافظ طلحہ بابر
ابراہیم بن کثیر سے روایت ہے کہ میں نے عمارہ بن غزیہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ سیدنا ابو ایوب ازدی رضی اللہ عنہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، پھر انہوں نے وہی طویل حدیث ذکر کی جو پہلے سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے گزر چکی ہے۔
یہ حدیث مرسل ہے کیونکہ عمارہ بن غزیہ اور سیدنا ابو ایوب و معاویہ کے درمیان طویل زمانی انقطاع ہے، جبکہ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ والی حدیث متصل اور مسند ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف لإعضاله بين عمارة وبين أبي أيوب ومعاوية كما سيشير المصنّف.
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے کیونکہ عمارہ اور حضرت ابو ایوب و حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما کے درمیان سند "معضل" (دو یا زائد راویوں کا سقوط) ہے، جیسا کہ مصنف خود اشارہ فرمائیں گے۔
وأخرجه الحارث بن أبي أسامة في "مسنده" (1025 - بغية الباحث) عن معاوية بن عمرو الفزاري، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے حارث بن ابی اسامہ نے اپنی "مسند" (1025 - بغیۃ الباحث) میں معاویہ بن عمرو الفزاری کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 16/ 56 من طريق المسيب بن واضح، عن أبي إسحاق الفزاري، به.
حوالہ / مصدر: اسے ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (16/ 56) میں مسیب بن واضح عن ابی اسحاق الفزاری کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وانظر ما تقدَّم برقم (6048).
نوٹ / توضیح: اس سلسلے میں پہلے گزرنے والی حدیث نمبر (6048) ملاحظہ فرمائیں۔
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے کیونکہ عمارہ اور حضرت ابو ایوب و حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما کے درمیان سند "معضل" (دو یا زائد راویوں کا سقوط) ہے، جیسا کہ مصنف خود اشارہ فرمائیں گے۔
وأخرجه الحارث بن أبي أسامة في "مسنده" (1025 - بغية الباحث) عن معاوية بن عمرو الفزاري، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے حارث بن ابی اسامہ نے اپنی "مسند" (1025 - بغیۃ الباحث) میں معاویہ بن عمرو الفزاری کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 16/ 56 من طريق المسيب بن واضح، عن أبي إسحاق الفزاري، به.
حوالہ / مصدر: اسے ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (16/ 56) میں مسیب بن واضح عن ابی اسحاق الفزاری کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وانظر ما تقدَّم برقم (6048).
نوٹ / توضیح: اس سلسلے میں پہلے گزرنے والی حدیث نمبر (6048) ملاحظہ فرمائیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6063 سے ماخوذ ہے۔