حدیث نمبر: 6042
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الأَصْبَهَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رُسْتَةَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ ، قال آخَى رسولُ الله ﷺ بين أَبي أيوب وبين مُصعب بن عُمير، وشهد أبو أيوب بدرًا وأُحدًا والخندقَ والمشاهدَ كلَّها مع رسول الله ﷺ، وتُوفي عام غزا يزيدُ بنُ معاوية القُسْطَنطينيّةَ في خلافة أبيه معاويةَ سنة اثنتين وخمسين، وقبرُه بأصل حِصْنِ القُسْطَنطِينيّة بأرض الروم - فيما ذُكر - يتعاهدون قبره يَرُمُّونه (1) ويَستسقُون به إذا قُحِطُوا (2).
حافظ طلحہ بابر

محمد بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا ابو ایوب انصاری اور سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہما کے درمیان بھائی چارہ قائم فرمایا تھا، سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ غزوہ بدر، احد، خندق اور رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تمام معرکوں میں شریک رہے، ان کی وفات سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں سن 52 ہجری میں اس وقت ہوئی جب یزید بن معاویہ نے قسطنطنیہ پر چڑھائی کی تھی، ان کی قبر قسطنطنیہ کے قلعے کی بنیاد میں ارضِ روم میں واقع ہے، جس کے متعلق یہ ذکر کیا جاتا ہے کہ لوگ وہاں کثرت سے جاتے ہیں، اس کی مرمت کرتے ہیں اور جب قحط پڑتا ہے تو اس کے ذریعے (اللہ سے) بارش کی دعا مانگتے ہیں۔

وضاحت:
اس سند میں مرکزی راوی محمد بن عمر الواقدی ہیں۔ الواقدی: جمہور محدثین (جیسے امام احمد، ابن معین، اور بخاری) کے نزدیک یہ "متروک" یا "ضعیف" قرار دیے گئے ہیں۔ تاہم، مغازی (غزوات) اور سیرت و تاریخ کے باب میں ان کی روایات کو معلومات کے لیے قبول کیا جاتا ہے، اگرچہ وہ احکام اور حلال و حرام میں حجت نہیں ہیں۔ دیگر راوی: سلیمان بن داؤد الشاذکونی بھی کلام سے خالی نہیں۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6042
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 6042] [ترقيم الشركة 5984]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) في (ز): ويرمُّونه، بواو العطف. ومعنى يرمُّونه: يُصلحونه.
نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) میں یہ لفظ واوِ عطف کے ساتھ "ويرمُّونه" منقول ہے۔ "یرمّونہ" کا لغوی معنی اس کی اصلاح یا مرمت کرنا ہے۔
(2) ورواه عن محمد بن عمر الواقديِّ ابن سعد في "الطبقات" 3/ 450.
حوالہ / مصدر: اسے محمد بن عمر الواقدی سے امام ابن سعد نے اپنی کتاب "الطبقات الکبری" (3/ 450) میں روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6042 سے ماخوذ ہے۔