المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
إِسْلَامُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ باب: سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کا اسلام قبول کرنے کا بیان
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق، حدثني يزيدُ بن أبي حَبيب، عن راشدٍ مولى حَبيب ابن [أبي] (1) أوس [عن حَبيب بن أبي أَوس] (2) حدثني عمرو بن العاص مِن فِيه، قال: خرجتُ عامدًا لِرسُول الله ﷺ لأُسلمَ، فلقيتُ خالدَ بن الوليد، وذلك قبلَ الفتح، وهو مُقبِلٌ من مكة، قلتُ: أين يا أبا سليمان؟ قال: والله لقد استقام المِيسَمُ، وإنَّ الرجلَ لَنبِيٌّ، أَذهَبُ واللهِ أُسلِمُ، فحتَّى متى (3)؟ فقلتُ: وأنا واللهِ ما جئتُ إِلَّا لأُسلِمَ؟ فَقَدِمْنا على رسول الله ﷺ، فتقدّم خالدُ بن الوليد فأسلَمَ وبايَعَ، ثم دَنَوتُ فبايعتُه، ثم انصرفتُ (4).
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں اسلام قبول کرنے کے ارادے سے رسول اللہ ﷺ کی طرف نکلا تو راستے میں میری ملاقات خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے ہوئی، یہ فتح مکہ سے پہلے کا واقعہ ہے اور وہ مکہ سے آ رہے تھے، میں نے پوچھا: اے ابوسلیمان! کہاں کا ارادہ ہے؟ انہوں نے جواب دیا: اللہ کی قسم! اب سیدھا راستہ بالکل واضح ہو چکا ہے اور بے شک وہ شخص اللہ کا سچا نبی ہے، اللہ کی قسم! میں تو اسلام قبول کرنے جا رہا ہوں، آخر کب تک (انکار کرتے رہیں گے)؟ میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں بھی صرف اسلام لانے ہی کے لیے نکلا ہوں، چنانچہ ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، پہلے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ آگے بڑھے، اسلام لائے اور بیعت کی، پھر میں نے قریب ہو کر بیعت کی اور واپس آ گیا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
فنی نکتہ: ہمارے قلمی نسخوں میں کنیت کا سابقہ (لفظ "ابی") گر گیا تھا، جسے ہم نے امام بیہقی کی "دلائل النبوۃ" (جلد 4، صفحہ 346) میں موجود ابوعبداللہ الحاکم کی روایت سے درست کر کے یہاں درج کیا ہے، کیونکہ وہاں بھی یہی سند موجود ہے۔
تفصیلِ روایت: ابن اسحاق سے زیاد البکائی کی روایت (جو حدیث نمبر 5377 پر گزر چکی ہے) میں بھی یہ لفظ ثابت ہے۔ اگرچہ ابن اسحاق سے بعض دیگر راویوں نے اس شخص کا نام "حبیب بن اوس" (بغیر کنیت کے) ذکر کیا ہے، لیکن یونس بن بکیر کی روایت میں یہ کنیت زیاد البکائی کی طرح موجود ہے۔
(2) سقط اسم حبيب بن أبي أوس من نسخنا الخطية، وأثبتناه من رواية البيهقي في "الدلائل" عن الحاكم، وهو ثابت في سائر الروايات عن ابن إسحاق لهذا الخبر.
فنی نکتہ: ہمارے قلمی نسخوں سے "حبیب بن ابی اوس" کا نام ساقط ہوگیا تھا، جسے ہم نے امام بیہقی کی "دلائل النبوۃ" (از حاکم) کی روایت سے بحال کیا ہے۔ نیز ابن اسحاق سے مروی اس خبر کی دیگر تمام روایات میں بھی یہ نام ثابت ہے۔
(3) تحرَّف في سائر نسخنا إلى: ليحاسبني، والتصويب من الرواية المتقدمة برقم (5377) من طريق زياد البكائي عن ابن إسحاق لهذا الخبر، وجاء على الصواب هنا في النسخة المحمودية كما في طبعة الميمان.
فنی نکتہ: ہمارے تمام نسخوں میں یہ لفظ تحریف ہو کر "لیحاسبنی" (تاکہ وہ میرا حساب لے) بن گیا تھا، جس کی تصحیح ابن اسحاق سے زیاد البکائی کی روایت (حدیث نمبر 5377) سے کی گئی ہے۔ نسخہ محمودیہ (طبع میمانی) میں یہاں یہ لفظ درست حالت میں موجود ہے۔
(4) خبر حسن كما تقدَّم بيانه برقم (5377).
درجۂ حدیث: یہ خبر "حسن" ہے جیسا کہ حدیث نمبر (5377) کے تحت اس کا بیان گزر چکا ہے۔