حدیث نمبر: 5964M
قال ابن عُمر: فحدّثني عبد الملك بن زيد - من ولَد سعيد بن زيد - عن أبيه، قال: تُوفي سعيد بن زيد بالعَقِيق، فحُمِلَ على رِقاب الرِّجال، ودُفن بالمدينة، ونزل في حُفرَته سعدُ بن أبي وقاص وابن عُمر، وذلك سنة خمسين أو إحدى وخمسين، وكان يومَ مات ابنَ بِضْعٍ وسبعين سنة (1). قال ابن عمر: وأمُّه فاطمة بنت بَعْجَة بن أُميّة بن خُوَيلد بن المعود (2) بن حَيَّان بن غَنْم (3).
حافظ طلحہ بابر

عبدالملک بن زید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ کا انتقال مقامِ عقیق میں ہوا، پھر انہیں کندھوں پر اٹھا کر مدینہ لایا گیا اور وہیں دفن کیا گیا، ان کی قبر میں سیدنا سعد بن ابی وقاص اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہم اترے، یہ واقعہ سن 50 یا 51 ہجری کا ہے، اور وفات کے وقت ان کی عمر ستر سال سے کچھ اوپر تھی، ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ان کی والدہ (خزاعہ سے تعلق رکھنے والی) فاطمہ بنت بعجہ بنت امیہ تھیں۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5964M
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 5964M]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) وهو في "الطبقات الكبرى" لابن سعد 3/ 385 عن محمد بن عمر الواقدي به.
حوالہ / مصدر: یہ "الطبقات الكبرى" ابن سعد (3/ 385) میں محمد بن عمر الواقدی سے اسی سند کے ساتھ موجود ہے۔
(2) هكذا جاء هذا الاسم في (ز)، وجاء في سائر نسخنا الخطية العود، بحذف الميم، وهذا رجل اختُلف في اسمه كما يظهر من كلام المزي في "تهذيب الكمال" 10/ 447.
نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) میں یہ نام اسی طرح (العمود) آیا ہے، جبکہ ہمارے باقی قلمی نسخوں میں "العود" (میم کے حذف کے ساتھ) آیا ہے۔ اس شخص کے نام میں اختلاف ہے جیسا کہ مزی کے کلام (تہذیب الکمال 10/ 447) سے ظاہر ہوتا ہے۔
(3) تحرَّف في نسخنا الخطية إلى غنيم، مصغرًا، والتصويب من مصادر الترجمة، وانظر "طبقات ابن سعد" 3/ 352، و "تاريخ دمشق" 21/ 66 و 68.
نوٹ / توضیح: ہمارے قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "غنیم" (تصغیر کے ساتھ) بن گیا ہے۔ اس کی تصحیح مصادرِ ترجمہ سے کی گئی ہے۔ دیکھیں: "طبقات ابن سعد" (3/ 352) اور "تاریخ دمشق" (21/ 66 اور 68)۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5964 سے ماخوذ ہے۔