مستدرکِ حاکم
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ إِسْلَامِ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کا بیان
حدثنا أبو عبد الله الأصبَهاني، حدثنا الحَسن بن الجَهْم، حدثنا الحُسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر، قال: وسعيد بن زيد بن عمرو بن نُفَيل، كان أبوه زيدُ بن عمرو بن نُفَيل قد فارقَ دِينَ قَومِه من قُريش، وتُوفّي وقُريشٌ تَبْني الكعبةَ، وذلك قبل أن يُوحَى إلى رسولِ اللهِ ﷺ بخمسِ سنينَ، فرُويَ عن رسول الله ﷺ أنه قال: "يُبعَثُ أُمّةً وَحْدَه" (2). وأسلم سعيد بن زيد بن عمرو قبل أن يَدخُل رسولُ الله ﷺ دارَ الأرقم، وقبل أن يَدعُو فيها الناسَ إلى الإسلام، وشهد سعيدُ بن زيد أحُدًا والخندق والمشاهد كلَّها مع رسول الله ﷺ، ولم يَشهَدْ بدرًا.
محمد بن عمر سے مروی ہے کہ سیدنا سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ کے والد زید بن عمرو بن نفیل اپنی قوم قریش کے (مشرکانہ) دین کو چھوڑ چکے تھے، ان کی وفات اس وقت ہوئی جب قریش کعبہ کی تعمیر کر رہے تھے اور یہ رسول اللہ ﷺ پر وحی کے آغاز سے پانچ سال پہلے کا واقعہ ہے، رسول اللہ ﷺ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا: ”وہ (قیامت کے دن) تنہا ایک امت کی صورت میں اٹھائے جائیں گے۔“ سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے دارِ ارقم میں داخل ہونے اور وہاں لوگوں کو اسلام کی دعوت دینے سے پہلے ہی ایمان لا چکے تھے، سعید بن زید رضی اللہ عنہ غزوہ احد، خندق اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تمام غزوات میں شریک رہے، البتہ وہ غزوۂ بدر میں موجود نہیں تھے۔
قال ابن عُمر: فحدّثني عبد الملك بن زيد - من ولَد سعيد بن زيد - عن أبيه، قال: تُوفي سعيد بن زيد بالعَقِيق، فحُمِلَ على رِقاب الرِّجال، ودُفن بالمدينة، ونزل في حُفرَته سعدُ بن أبي وقاص وابن عُمر، وذلك سنة خمسين أو إحدى وخمسين، وكان يومَ مات ابنَ بِضْعٍ وسبعين سنة (1). قال ابن عمر: وأمُّه فاطمة بنت بَعْجَة بن أُميّة بن خُوَيلد بن المعود (2) بن حَيَّان بن غَنْم (3).
عبدالملک بن زید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ کا انتقال مقامِ عقیق میں ہوا، پھر انہیں کندھوں پر اٹھا کر مدینہ لایا گیا اور وہیں دفن کیا گیا، ان کی قبر میں سیدنا سعد بن ابی وقاص اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہم اترے، یہ واقعہ سن 50 یا 51 ہجری کا ہے، اور وفات کے وقت ان کی عمر ستر سال سے کچھ اوپر تھی، محمد بن عمر (واقدی) بیان کرتے ہیں کہ ان کی والدہ (خزاعہ سے تعلق رکھنے والی) فاطمہ بنت بعجہ بن امیہ تھیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
متابعات و شواہد: یہ بات اسماء بنت ابی بکر کی حدیث سے نسائی (8131) میں "صحیح سند" کے ساتھ؛ اور سعید بن زید کی حدیث سے احمد (3/ 1648) میں "ضعیف سند" کے ساتھ مروی ہے۔
ومن حديث زيد بن حارثة، وسلف عند المصنف برقم (5022) بإسناد حسن.
متابعات و شواہد: اور زید بن حارثہ کی حدیث سے مصنف کے ہاں پیچھے نمبر (5022) پر "حسن سند" کے ساتھ گزر چکی ہے۔