حدیث نمبر: 5964
حدثنا أبو عبد الله الأصبَهاني، حدثنا الحَسن بن الجَهْم، حدثنا الحُسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر، قال: وسعيد بن زيد بن عمرو بن نُفَيل، كان أبوه زيدُ بن عمرو بن نُفَيل قد فارقَ دِينَ قَومِه من قُريش، وتُوفّي وقُريشٌ تَبْني الكعبةَ، وذلك قبل أن يُوحَى إلى رسولِ اللهِ ﷺ بخمسِ سنينَ، فرُويَ عن رسول الله ﷺ أنه قال: "يُبعَثُ أُمّةً وَحْدَه" (2). وأسلم سعيد بن زيد بن عمرو قبل أن يَدخُل رسولُ الله ﷺ دارَ الأرقم، وقبل أن يَدعُو فيها الناسَ إلى الإسلام، وشهد سعيدُ بن زيد أحُدًا والخندق والمشاهد كلَّها مع رسول الله ﷺ، ولم يَشهَدْ بدرًا.
حافظ طلحہ بابر

محمد بن عمر سے مروی ہے کہ سیدنا سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ کے والد زید بن عمرو بن نفیل اپنی قوم قریش کے (مشرکانہ) دین کو چھوڑ چکے تھے، ان کی وفات اس وقت ہوئی جب قریش کعبہ کی تعمیر کر رہے تھے اور یہ رسول اللہ ﷺ پر وحی کے آغاز سے پانچ سال پہلے کا واقعہ ہے، رسول اللہ ﷺ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا: ”وہ (قیامت کے دن) تنہا ایک امت کی صورت میں اٹھائے جائیں گے۔“ سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے دارِ ارقم میں داخل ہونے اور وہاں لوگوں کو اسلام کی دعوت دینے سے پہلے ہی ایمان لا چکے تھے، سعید بن زید رضی اللہ عنہ غزوہ احد، خندق اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تمام غزوات میں شریک رہے، البتہ وہ غزوۂ بدر میں موجود نہیں تھے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5964
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 5964] [ترقيم الشركة 5905]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) روي هذا الحرف من حديث أسماء بنت أبي بكر عند النسائي (8131) بإسناد صحيح. ومن حديث سعيد بن زيد عند أحمد 3/ (1648) بإسناد ضعيف.
متابعات و شواہد: یہ بات اسماء بنت ابی بکر کی حدیث سے نسائی (8131) میں "صحیح سند" کے ساتھ؛ اور سعید بن زید کی حدیث سے احمد (3/ 1648) میں "ضعیف سند" کے ساتھ مروی ہے۔
ومن حديث زيد بن حارثة، وسلف عند المصنف برقم (5022) بإسناد حسن.
متابعات و شواہد: اور زید بن حارثہ کی حدیث سے مصنف کے ہاں پیچھے نمبر (5022) پر "حسن سند" کے ساتھ گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5964 سے ماخوذ ہے۔