المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ مَنَاقِبِ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ عَاشِرِ الْعَشَرَةِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: سیدنا سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ (عشرۂ مبشرہ میں دسویں صحابی) کے فضائل کا بیان
حدیث نمبر: 5959
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونُس بن بُكَير، عن ابن إسحاق، في تسمية من شَهِدَ بدرًا من المسلمين مع رسولِ الله ﷺ من بني عَدِيّ بن كَعْب بن فِهر بن مالك، قال: وسعيدُ بن زيد بن عمرو بن نُفَيل بن عبد العُزَى بن رِيَاح بن قُرْط بن رَزَاح بن عَدِيّ بن كَعْب بن لُؤي بن غالب بن فِهْر بن مالك، وأمُّه فاطمةُ بنت بَعْجَةَ من خُزَاعة، قَدِم من الشام بعد قُدوم رسولِ الله ﷺ من بدر، فضَرَبَ له رسول الله ﷺ بسَهمِه، قال: وأجْرِي يا رسول الله؟ قال: "وأجْرُك" (2).
حافظ طلحہ بابر
ابن اسحاق سے غزوۂ بدر میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ شریک ہونے والے بنو عدی بن کعب کے صحابہ کے تذکرے میں مروی ہے کہ ان میں سیدنا سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ شامل تھے، ان کی والدہ خزعہ سے تعلق رکھنے والی فاطمہ بنت بعجہ تھیں، آپ شام سے اس وقت آئے جب رسول اللہ ﷺ بدر سے واپس آ چکے تھے، آپ ﷺ نے ان کے لیے حصہ مقرر فرمایا، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا میرا اجر بھی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور تمہارا اجر بھی ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) وهو في "سيرة ابن هشام" 1/ 683، وهي برواية زياد بن عبد الله البّكائي عن ابن إسحاق، وزاد في نسب سعد بن زيد رجلًا بين رياح وقُرْط هو عبد الله، وهو المعروف في نسبه.
حوالہ / مصدر: یہ "سیرت ابن ہشام" (1/ 683) میں زیاد بن عبداللہ البکائی کی ابن اسحاق سے روایت کے ساتھ موجود ہے۔ انہوں نے سعد بن زید کے نسب میں ریاح اور قرط کے درمیان ایک آدمی "عبداللہ" کا اضافہ کیا ہے، اور یہی ان کے نسب میں معروف ہے۔
حوالہ / مصدر: یہ "سیرت ابن ہشام" (1/ 683) میں زیاد بن عبداللہ البکائی کی ابن اسحاق سے روایت کے ساتھ موجود ہے۔ انہوں نے سعد بن زید کے نسب میں ریاح اور قرط کے درمیان ایک آدمی "عبداللہ" کا اضافہ کیا ہے، اور یہی ان کے نسب میں معروف ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5959 سے ماخوذ ہے۔