المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ مَنَاقِبِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكِ بْنِ بُحَيْنَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: سیدنا عبد اللہ بن مالک بن بحینہ رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
حدیث نمبر: 5931
فأخبرَناهُ أبو العباس محمد بن أحمد المَحبُوبي، أخبرنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا هشام، عن يحيى بن أبي كَثير، عن محمد بن عبد الرحمن بن ثَوْبَانَ، عن عبد الله بن مالك بن بُحَينة: أنَّ رسول الله ﷺ مَرَّ به وهو مُنتَصِبٌ يُصلِّي بين يَدَي صلاةِ الصبحِ، فقال النبيُّ ﷺ: "لا تَجْعَلُوا هذه الصلاةَ كالصلاةِ قبلَ الظُّهر وبعدَها، واجعَلُوا بينهم فَصْلًا (1). ذكرُ مناقب نافع بن عُتبة بن أبي وَقّاص ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5819 - سكت عنه الذهبي في التلخيصحافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مالک بن بحینہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ان کے پاس سے گزرے جبکہ وہ فجر کی نماز سے پہلے (سنتیں پڑھنے کے لیے) سیدھے کھڑے تھے، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تم اس نماز کو ظہر سے پہلے اور اس کے بعد والی نمازوں کی طرح (فرض سے متصل) نہ بناؤ، بلکہ ان کے درمیان فاصلہ رکھا کرو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) رجاله ثقات، ولفظه غريب، وقد أشار البخاري في "تاريخه" 1/ 145 إلى أن رواية هشام - وهو الدستوائي - وشيبان - وهو ابن عبد الرحمن النَّحوي - عن يحيى بن أبي كثير عن محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان: أنَّ عبد الله بن مالك ابن بُحينة مرّ به النبيُّ ﷺ وهو يصلي … كأنه يعني أن هذه الرواية مرسلة.
درجۂ حدیث: اس کے رجال ثقہ ہیں، لیکن اس کے الفاظ "غریب" ہیں۔ بخاری نے "التاریخ" (1/ 145) میں اشارہ کیا ہے کہ ہشام (الدستوائی) اور شیبان (ابن عبدالرحمن النحوی) کی روایت جو یحییٰ بن ابی کثیر سے اور وہ محمد بن عبدالرحمن بن ثوبان سے ہے کہ: "عبداللہ بن مالک بن بحینہ کے پاس سے نبی ﷺ گزرے جبکہ وہ نماز پڑھ رہے تھے..." گویا ان کا مطلب یہ ہے کہ یہ روایت "مرسل" ہے۔
وأخرجه أحمد 38/ (22927) من طريق معمر بن راشد عن يحيى بن أبي كثير به.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (38/ 22927) نے معمر بن راشد کے طریق سے یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: اس کے رجال ثقہ ہیں، لیکن اس کے الفاظ "غریب" ہیں۔ بخاری نے "التاریخ" (1/ 145) میں اشارہ کیا ہے کہ ہشام (الدستوائی) اور شیبان (ابن عبدالرحمن النحوی) کی روایت جو یحییٰ بن ابی کثیر سے اور وہ محمد بن عبدالرحمن بن ثوبان سے ہے کہ: "عبداللہ بن مالک بن بحینہ کے پاس سے نبی ﷺ گزرے جبکہ وہ نماز پڑھ رہے تھے..." گویا ان کا مطلب یہ ہے کہ یہ روایت "مرسل" ہے۔
وأخرجه أحمد 38/ (22927) من طريق معمر بن راشد عن يحيى بن أبي كثير به.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (38/ 22927) نے معمر بن راشد کے طریق سے یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5931 سے ماخوذ ہے۔