حدیث نمبر: 5803M1
قال ابن عُمر: فحدثني عبد الله بن أبي عُبيدة، عن أبيه، قال: قال عمار بن ياسر: لقيتُ صُهيب بن سِنانٍ على باب دارِ الأرقم ورسول الله ﷺ فيها، فقلتُ له: ما تريدُ؟ فقال لي: ما تريدُ أنتَ؟ فقلتُ: أردتُ أن أدخُلَ على محمدٍ فأَسمعَ كلامَه، قال: وأنا أُريد ذلك، فدخلْنا عليه، فعَرَض علينا الإسلام فأسلَمْنا، ثم مَكَثْنا يومَنا على ذلك حتى أمسَينا، ثم خَرَجنا ونحن مُستَخْفُون (3)
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میری ملاقات صہیب بن سنان سے دارِ ارقم کے دروازے پر ہوئی جبکہ رسول اللہ ﷺ اندر تشریف فرما تھے، میں نے ان سے پوچھا: ”تم کیا چاہتے ہو؟“ انہوں نے مجھ سے پوچھا: ”تم کیا چاہتے ہو؟“ میں نے کہا: ”میں محمد ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر ان کی باتیں سننا چاہتا ہوں“، انہوں نے کہا: ”میرا بھی یہی ارادہ ہے“، چنانچہ ہم دونوں اندر داخل ہوئے تو آپ ﷺ نے ہمیں اسلام پیش فرمایا اور ہم مسلمان ہو گئے، پھر ہم سارا دن وہیں رہے یہاں تک کہ شام ہو گئی، پھر ہم وہاں سے چھپتے چھپاتے باہر نکلے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5803M1
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 5803M1] [ترقيم الشركة 5748]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) وهو في "الطبقات الكبرى" لابن سعد 3/ 208 عن محمد بن عُمر الواقدي، به.
حوالہ / مصدر: یہ ابن سعد کی "الطبقات الكبرى" (3/ 208) میں محمد بن عمر الواقدی سے اسی سند کے ساتھ موجود ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5803 سے ماخوذ ہے۔