حدیث نمبر: 5803
حدثنا أبو عبد الله الأصبَهاني، حدثنا الحَسن بن الجَهم، حدثنا الحُسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر، قال: صُهَيب بن سِنانِ بن مالك بن عبد عَمرو بن عُقيل بن عامر، وكان أبوه سِنانُ بن مالك عامِلًا لكِسْرى على الأُبُلّة، وكانت مَنازلُهم بأرضِ المَوصِل في قريةٍ على شَطِّ الفُرات ممّا يلي الجَزيرةَ والمَوصِلَ، فأغارت الرومُ على تلك الناحية، فسُبِيَ صهيبٌ وهو غلام صغير، فقال عمُّه: أَنشُدُ باللهِ الغُلامَ النَّمَريّ … دَجَّ به الرُّومُ وأهلي بالثَّنِيّ (1) قال: والثَّنِيُّ (1) اسمُ القرية التي كان بها أهلُه، فنشأ صهيبٌ بالروم، فابتاعه منهم كَلْبٌ، ثم قَدِمَت به مكةَ، فاشتراهُ عبدُ الله بن جُدْعان التَّيْمي، فأعتقه، فأقام معه بمكة حتى هَلَكَ عبدُ الله بن جُدعان وبُعِثَ النبيُّ ﷺ (2)
حافظ طلحہ بابر

محمد بن عمر بیان کرتے ہیں کہ صہیب بن سنان بن مالک بن عبد عمرو کا نسب بنو نمر تک پہنچتا ہے، ان کے والد سنان بن مالک کسریٰ (شاہِ فارس) کی طرف سے ابلہ کے گورنر تھے، ان کے گھر موصل کی سرزمین میں دریائے فرات کے کنارے ایک بستی میں واقع تھے، پھر رومیوں نے اس علاقے پر حملہ کر دیا اور صہیب کو اس وقت قیدی بنا لیا جب وہ چھوٹے بچے تھے، ان کے چچا نے (اشعار میں) کہا: ”میں اللہ سے اس نمیری بچے کی خیر مانگتا ہوں جسے رومی اٹھا کر لے گئے جبکہ میرے گھر والے ثنی نامی بستی میں تھے“، چنانچہ صہیب کی پرورش رومیوں میں ہوئی، پھر انہیں قبیلہ بنو کلب کے ایک شخص نے خریدا اور مکہ لے آیا، وہاں انہیں عبداللہ بن جدعان تیمی نے خرید کر آزاد کر دیا، وہ مکہ میں ان کے ساتھ ہی رہے یہاں تک کہ عبداللہ بن جدعان کا انتقال ہو گیا اور نبی کریم ﷺ مبعوث ہوئے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5803
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 5803] [ترقيم الشركة 5748]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تصحفت في النسخ الخطية في الموضعين إلى: النبي، بنون ثم موحدة، بدل الثاء المثلثة ثم النون.
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں دونوں مقامات پر یہ لفظ تصحیف کا شکار ہو کر "النبی" (نون اور پھر باء موحدہ) بن گیا ہے، جبکہ صحیح "الثنی" (ثاء مثلثہ اور پھر نون) ہے۔
(2) ومثلُه قولُ ابن سعد في "طبقاته" 3/ 206، وابن سعد كاتب محمد بن عمر الواقدي.
حوالہ / مصدر: اسی طرح کا قول ابن سعد نے اپنی "طبقات" (3/ 206) میں نقل کیا ہے، اور ابن سعد محمد بن عمر الواقدی کے کاتب (شاگرد) ہیں۔
(1) وهو في "طبقات ابن سعد" 3/ 211 عن محمد بن عُمر الواقدي، به.
حوالہ / مصدر: یہ "طبقات ابن سعد" (3/ 211) میں محمد بن عمر الواقدی سے اسی سند کے ساتھ موجود ہے۔
قوله: لم يَرِم، أي: لم يَبْرح.
نوٹ / توضیح: قولہ "لم یَرِم" کا مطلب ہے: وہ اپنی جگہ سے نہیں ہٹا۔
(2) وهو في "طبقات ابن سعد" 3/ 211 عن محمد بن عُمر الواقدي، به.
حوالہ / مصدر: یہ "طبقات ابن سعد" (3/ 211) میں محمد بن عمر الواقدی سے اسی سند کے ساتھ موجود ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5803 سے ماخوذ ہے۔