حدیث نمبر: 5794
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا أبو جعفر محمد بن عثمان بن أبي شَيْبة، حدثنا عَبَادة بن زياد الأسَدي، حدثنا عبد الرحمن بن محمد بن عُبيد الله العَرْزَمي، حدثنا جعفر بن محمد، عن أبيه، عن محمد بن طلْحة بن يزيد بن رُكانة، عن محمد ابن الحنفيّة، قال: رأيتُ أبا عَمْرة الأنصاريَّ يوم صِفِّين - وكان بدريًّا عَقَبيًّا أُحُديًّا - وهو صائم يَلْتَوي من العَطَش، وهو يقول لغلامٍ له: وَيحَكَ تَرِّسْني، فيُترِّسُه الغلامُ، ثم رَمَى بسهمٍ، فنَزَعَ نَزْعًا ضعيفًا، حتى رَمَى بثلاثة أسهم، ثم قال: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول: "مَن رَمى بسهمٍ في سبيل الله، فبلَغَ أو قَصَّر، كان ذلك السهمُ له نورًا يوم القيامة"، فقُتل قبل غُروب الشمس (2). ذكرُ مناقب هاشم بن عُتبة بن أبي وَقّاص ﵁ - وهو أخو سَعْد، من المُبارِزينَ من شَبَاب أصحابِ رسول الله ﷺ.
حافظ طلحہ بابر

محمد بن حنفیہ سے روایت ہے کہ میں نے جنگ صفین کے دن ابوعمرہ انصاری رضی اللہ عنہ کو دیکھا - وہ بدری، عقبی اور احدی صحابی تھے - وہ روزے سے تھے اور پیاس کی شدت سے نڈھال ہو کر تڑپ رہے تھے، وہ اپنے غلام سے کہہ رہے تھے: تیرا بھلا ہو، مجھے (ڈھال سے) چھپاؤ، چنانچہ غلام انہیں چھپاتا رہا، پھر انہوں نے ایک تیر چلایا جو (کمزوری کی وجہ سے) تھوڑی دور گرا، یہاں تک کہ انہوں نے تین تیر چلائے، پھر فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس نے اللہ کی راہ میں کوئی تیر چلایا، وہ (نشانے پر) پہنچ جائے یا اس سے پہلے گر جائے، وہ تیر اس کے لیے قیامت کے دن نور ہوگا“، پھر وہ سورج غروب ہونے سے پہلے ہی شہید ہو گئے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5794
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لضعف عبد الرحمن بن محمد بن عُبيد الله العَرْزمي.» [ترقيم الرساله 5794] [ترقيم الشركة 5739]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده ضعيف لضعف عبد الرحمن بن محمد بن عُبيد الله العَرْزمي.
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ضعف کی وجہ عبدالرحمن بن محمد بن عبیداللہ العرزمی کا ضعیف ہونا ہے۔
وأخرجه أبو نُعيم في "معرفة الصحابة" (6906) عن أبي علي محمد بن أحمد بن الحسن الصوَّاف، عن محمد بن عثمان بن أبي شيبة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابو نعیم نے "معرفة الصحابة" (6906) میں ابو علی محمد بن احمد بن الحسن الصواف کے واسطے سے محمد بن عثمان بن ابی شیبہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقد خالف الطبرانيُّ أبا عليٍّ الصوافَ وعليَّ بنَ حَمْشاذ في تسمية الصحابي، فروى هذا الخبر في "معجمه الكبير" 22/ (951)، وسمَّى الصحابيَّ أبا عمرو الأنصاري، ومن طريقه أخرجه أبو نعيم في "المعرفة" (6904)، وابن الأثير في "أُسد الغابة" 5/ 226 - 227، والصحيحُ أبو عَمْرة، كما قال ابن الأثير.
فنی نکتہ / علّت: طبرانی نے صحابی کا نام لینے میں ابو علی الصواف اور علی بن حمشاذ کی مخالفت کی ہے۔ چنانچہ انہوں نے "المعجم الكبير" (22/ 951) میں یہ خبر روایت کی اور صحابی کا نام "ابو عمرو انصاری" ذکر کیا ہے۔ ان کے طریق سے ابو نعیم نے "المعرفہ" (6904) اور ابن الاثیر نے "أُسد الغابة" (5/ 226-227) میں روایت کیا ہے۔
اہم نکتہ: لیکن صحیح نام "ابو عمرہ" ہی ہے، جیسا کہ ابن الاثیر نے کہا ہے۔
وقد رُوي المرفوع من حديث أبي هريرة عند البزار (9312)، وإسناده ضعيف.
متابعات و شواہد: یہ حدیث مرفوعاً ابو ہریرہ سے بھی مروی ہے جو بزار (9312) میں ہے، مگر اس کی سند ضعیف ہے۔
وقد صحَّ بلفظ: "من رَمَى بسهم في سبيل الله فله عَدْلُ مُحرَّر، ومن بَلَغَ بسهمٍ في سبيل الله فله درجةٌ في الجنة"، وتقدَّم عند المصنف (2592) و (4419) من حديث أبي نَجيح عمرو بن عَبَسة السُّلَمي.
درجۂ حدیث: البتہ یہ حدیث ان الفاظ کے ساتھ صحیح ثابت ہے: "جس نے اللہ کی راہ میں تیر مارا اس کے لیے ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ہے، اور جس کا تیر اللہ کی راہ میں نشانے پر پہنچا اس کے لیے جنت میں ایک درجہ ہے۔" یہ روایت مصنف کے ہاں (2592) اور (4419) پر ابو نجیح عمرو بن عبسہ السلمی کی حدیث سے گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5794 سے ماخوذ ہے۔