المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ مَنَاقِبِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُدَيْلِ بْنِ وَرْقَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا عبد اللہ بن بدیل بن ورقاء رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان
حدیث نمبر: 5793
حدثنا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن بُطّة الأصبهَاني، حدثنا الحَسن بن الجَهْم، حدثنا الحُسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عُمر، قال: عبد الله بن بُدَيل بن وَرْقاء بن عبد العُزّى بن رَبيعة بن جُرَيّ (1) بن عامر بن مازن بن عَديّ بن عَمرو بن رَبيعة، شهد مع النبيّ ﷺ فتحَ مكةَ وحُنينًا وتَبوكَ، وقُتِل مع عليٍّ ﵁ يوم صِفِّينَ. ذكرُ مناقب أبي عَمْرةَ الأنصاري ﵁ -
حافظ طلحہ بابر
محمد بن عمر بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن بدیل بن ورقاء بن عبدالعزیٰ بن ربیعہ بن جری بن عامر بن مازن بن عدی بن عمرو بن ربیعہ نے نبی کریم ﷺ کے ہمراہ فتح مکہ، غزوہ حنین اور غزوہ تبوک میں شرکت کی، اور وہ جنگ صفین کے دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ (لڑتے ہوئے) شہید ہوئے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) أُعجم هذا الاسم في (ز) و (ب) بالزاي المعجمة، بدل الراء المُهملة، وأُهمل في (ص) و (م)، وقد ضبطه بالراء المهملة الدارقطنيُّ في "المؤتلف والمختلف" 1/ 489، وابنُ ماكولا في "الإكمال" 2/ 76.
نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) اور (ب) میں اس نام کو "ز" (زائے معجمہ) کے ساتھ لکھا گیا ہے بجائے "ر" (رائے مہملہ) کے، جبکہ (ص) اور (م) میں بغیر نقطے کے ہے۔ دارقطنی نے "المؤتلف والمختلف" (1/ 489) اور ابن ماکولا نے "الاکمال" (2/ 76) میں اسے "ر" (رائے مہملہ) کے ساتھ ضبط کیا ہے۔
نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) اور (ب) میں اس نام کو "ز" (زائے معجمہ) کے ساتھ لکھا گیا ہے بجائے "ر" (رائے مہملہ) کے، جبکہ (ص) اور (م) میں بغیر نقطے کے ہے۔ دارقطنی نے "المؤتلف والمختلف" (1/ 489) اور ابن ماکولا نے "الاکمال" (2/ 76) میں اسے "ر" (رائے مہملہ) کے ساتھ ضبط کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5793 سے ماخوذ ہے۔