المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
خُرُوجُ عَمَّارٍ فِي الْفِتْنَةِ كَانَ لِوَجْهِ اللَّهِ باب: فتنہ کے زمانے میں سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کا نکلنا اللہ کے لیے تھا
حدیث نمبر: 5791
أخبرنا أبو زكريا العَنْبري، حدثنا محمد بن عمرو الحَرَشي، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا وكيع، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم، قال: قال عبدُ الله: ما أعلمُ أحدًا خرجَ في الفتنةِ يريدُ به وجهَ الله تعالى والدارَ الآخرةَ إلَّا عمارَ بنَ ياسر (1). صحيح الإسناد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5686 - على شرط البخاري ومسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”میں کسی ایسے شخص کو نہیں جانتا جو فتنہ (جنگ) کے دوران (میدان میں) نکلا ہو اور اس سے اس کا مقصد محض اللہ تعالیٰ کی رضا اور دارِ آخرت کا حصول ہو سوائے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. عبد الله: هو ابن مسعود.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: راوی "عبداللہ" سے مراد ابن مسعود ہیں۔
وروى مثلَه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 43/ 454 عن ابن عُمر، بإسناد حسن.
متابعات و شواہد: اسی جیسی روایت ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (43/ 454) میں حضرت عبداللہ بن عمر سے "حسن" سند کے ساتھ نقل کی ہے۔
وقال الذهبي في "تلخيصه": مرادُه بالفتنة هنا نَيلُهم من عثمان، لأنَّ عبد الله مات قبل مقتل عثمان.
اہم نکتہ: ذہبی نے "تلخیص" میں فرمایا: یہاں فتنے سے مراد لوگوں کا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر تنقید کرنا ہے، کیونکہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ حضرت عثمان کی شہادت سے پہلے وفات پا چکے تھے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: راوی "عبداللہ" سے مراد ابن مسعود ہیں۔
وروى مثلَه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 43/ 454 عن ابن عُمر، بإسناد حسن.
متابعات و شواہد: اسی جیسی روایت ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (43/ 454) میں حضرت عبداللہ بن عمر سے "حسن" سند کے ساتھ نقل کی ہے۔
وقال الذهبي في "تلخيصه": مرادُه بالفتنة هنا نَيلُهم من عثمان، لأنَّ عبد الله مات قبل مقتل عثمان.
اہم نکتہ: ذہبی نے "تلخیص" میں فرمایا: یہاں فتنے سے مراد لوگوں کا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر تنقید کرنا ہے، کیونکہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ حضرت عثمان کی شہادت سے پہلے وفات پا چکے تھے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5791 سے ماخوذ ہے۔