حدیث نمبر: 5788
حدثنا عبد الباقي بن قانِع الحافظ، حدثنا أحمد بن القاسم بن مُساوِر الجَوهَري، حدثنا سعيد بن سُليمان الواسطي، حدثنا عبد الرحمن بن عبد الملك بن أبْجَرَ، حدثني أبي، عن واصِل بن حَيّان، عن أبي وائل، قال: خَطَبَنا عمارُ بن ياسر، فأبلَغَ وأوجَزَ، فقلنا: يا أبا اليقظان، لقد أبلغتَ وأوجَزتَ، فقال: إني سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "إنَّ طُولَ الصلاةِ وقصَرَ الخُطبة، مَئِنّةٌ من فِقْه الرجل، فأطِيلُوا الصلاةَ، واقصُرُوا الخُطبةَ" (2). صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه بهذه السِّياقَة!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5683 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

ابو وائل سے روایت ہے کہ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا جو کہ انتہائی فصیح، بلیغ اور مختصر تھا، ہم نے عرض کیا: اے ابو الیقظان! آپ نے بہت جامع اور مختصر گفتگو فرمائی ہے، تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بلاشبہ نماز کا طویل ہونا اور خطبے کا مختصر ہونا آدمی کے صاحبِ فقہ (سمجھ بوجھ والا) ہونے کی علامت ہے، پس تم نماز کو لمبا کرو اور خطبے کو مختصر رکھا کرو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا!

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5788
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،أبو وائل: هو شقيق بن سلمة.» [ترقيم الرساله 5788] [ترقيم الشركة 5733] [ترقيم العلميه 5683]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح. أبو وائل: هو شقيق بن سلمة.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابو وائل سے مراد شقیق بن سلمہ ہیں۔
وأخرجه أحمد 30/ (18317)، ومسلم (869)، وابن حبان (2791) من طريقين عن عبد الرحمن بن عبد الملك بن أَبْجَر، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (30/ 18317)، مسلم (869) اور ابن حبان (2791) نے عبدالرحمن بن عبدالملک بن ابجر کے دو طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
اہم نکتہ: لہٰذا حاکم کا اس حدیث کا استدراک کرنا ان کی بھول (ذہول) ہے۔
وانظر ما تقدَّم برقم (1078).
نوٹ / توضیح: اور وہ دیکھیں جو پیچھے نمبر (1078) پر گزر چکا ہے۔
قوله: "مَئِنَّة من فقه الرجل"، ما يُعرف به فقه الرجل، وكلُّ شيءٍ دلَّ على شيءٍ فهو مَئِنَّة له.
نوٹ / توضیح: قولہ "مَئِنَّة من فقه الرجل" کا مطلب ہے: وہ چیز جس سے آدمی کی فقاہت (سمجھ بوجھ) پہچانی جائے۔ ہر وہ چیز جو کسی دوسری چیز پر دلالت کرے وہ اس کی "مَئِنَّہ" (نشانی/علامت) ہوتی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5788 سے ماخوذ ہے۔