حدیث نمبر: 561
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا العباس بن الوليد بن مَزْيَد البيروتي، حدثنا محمد بن شعيب بن شابُور، حدثني عُتْبة بن أبي حَكِيم، عن طَلْحة بن نافع، أنه حدثه قال: حدثني أبو أيوب وجابر بن عبد الله وأنس بن مالك الأنصاريون، عن رسول الله ﷺ في هذه الآية ﴿فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ﴾ [التوبة: 108]، فقال رسول الله ﷺ: "يا معشر الأنصار، إِنَّ الله قد أَثنى عليكم خيرًا في الطُّهور، فما طُهورُكم هذا؟ " قالوا: يا رسول الله، نتوضَّأُ للصلاة، والغُسْلُ من الجنابة، فقال رسول الله ﷺ: "هل مع ذلك غيرُه؟ " قالوا: لا، غيرَ أنَّ أحدنا إذا خرج من الغائط أحبَّ أن يستنجيَ بالماء، قال: "هو ذاكَ" (1).
هذا حديث كبير صحيح في كتاب الطهارة، فإنَّ محمد بن شعيب بن شابور وعُتْبة بن أبي حَكيم من أئمة أهل الشام، والشيخان ..... (2) إنما أخذا مُخَّ الروايات، ومثل هذا الحديث لا يُترَك له. قال إبراهيم بن يعقوب: محمد بن شعيب أعرف الناس بحديث الشاميين. وله شاهد بإسناد صحيح:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 554 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابو ایوب، سیدنا جابر بن عبداللہ اور سیدنا انس بن مالک انصاری رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس آیت ﴿فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ﴾ [التوبة: 108] کے بارے میں فرمایا: ”اے گروہِ انصار! اللہ تعالیٰ نے طہارت کے معاملے میں تمہاری بہت تعریف فرمائی ہے، تو تمہاری یہ کیسی طہارت ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! ہم نماز کے لیے وضو کرتے ہیں اور جنابت سے غسل کرتے ہیں،“ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا اس کے علاوہ بھی کچھ ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ”بس اتنی سی بات ہے کہ جب ہم میں سے کوئی قضائے حاجت سے فارغ ہوتا ہے تو وہ پانی سے استنجا کرنا پسند کرتا ہے،“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پس یہی وہ (وجہِ تعریف) ہے۔“
یہ حدیث کتاب الطہارت کی ایک عظیم اور صحیح روایت ہے، محمد بن شعیب اور عتبہ بن ابی حکیم اہل شام کے ائمہ میں سے ہیں اور ایسی روایت کو ترک نہیں کیا جا سکتا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطهارة / حدیث: 561
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن،إن شاء الله من أجل عتبة بن أبي حكيم، وبقية رجاله لا بأس بهم» [ترقيم الرساله 561] [ترقيم الشركة 556] [ترقيم العلميه 554]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده حسن إن شاء الله من أجل عتبة بن أبي حكيم، وبقية رجاله لا بأس بهم.
درجۂ حدیث: عتبہ بن ابی حکیم کی وجہ سے یہ سند ان شاء اللہ "حسن" ہے، اور بقیہ تمام راویوں میں کوئی حرج نہیں۔
وأخرجه ابن ماجه (355) من طريق صدقة بن خالد، عن عتبة بن أبي حكيم، به. وسيأتي من هذا الطريق برقم (3326)، وانظر (685).
حوالہ / مصدر: اسے امام ابن ماجہ نے (355) میں صدقہ بن خالد عن عتبہ بن ابی حکیم کی سند سے روایت کیا ہے۔
نوٹ / توضیح: یہ دوبارہ نمبر (3326) اور (685) پر آئے گی۔
وفي الباب عن ابن عباس، وسيأتي حديثه برقم (684)
متابعات و شواہد: اس باب میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت بھی ہے جو آگے نمبر (684) پر آئے گی۔
(2) هنا بياض في النسخ الخطية.
اہم نکتہ: یہاں خطی نسخوں میں خالی جگہ (بیاض) چھوڑی گئی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 561 سے ماخوذ ہے۔